• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگست میں ہندوستان کی صنعتی پیداوار ۸؍ فیصد بڑھی، مینوفیکچرنگ شعبہ سرفہرست

Updated: September 28, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی صنعتی پیداوار میں اگست ۲۰۲۶ء کے دوران سالانہ بنیاد پر ۸ ؍فیصد کا مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صنعتی پیداوار میں یہ تیزی بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ شعبے کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے آئی ۔

Manufacturing.Photo:INN
مینوفیکچرنگ۔ تصویر:آئی این این

 ہندوستان کی صنعتی پیداوار میں اگست ۲۰۲۶ء کے دوران سالانہ بنیاد پر  ۸ ؍فیصد  کا مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صنعتی پیداوار میں یہ تیزی بنیادی طور پر  مینوفیکچرنگ شعبے کی بہتر کارکردگی  کی وجہ سے آئی  جہاں پیداوار میں  ۹ ؍فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ اگست کی صنعتی پیداوار کی شرح جولائی کے نظرثانی شدہ ۴ء۷؍فیصد  کے مقابلے میں بھی زیادہ رہی۔ 
وزارتِ شماریات اور پروگرام عمل درآمد کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صنعتی پیداوار اشاریہ (آئی آئی پی)  میں سب سے زیادہ وزن رکھنے والے مینوفیکچرنگ شعبے نے مسلسل مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مینوفیکچرنگ شعبے نے مسلسل تین ماہ میں  ۸؍فیصد یا اس سے زیادہ  کی ترقی درج کی ہے، جو صنعتی سرگرمی میں مضبوطی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یوئیفانیشنز لیگ: آئرش فٹبالرز نے اسرائیلی ٹیم سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا

 مینوفیکچرنگ شعبے کے اندر اگست کے دوران  ۲۳؍ میں سے ۱۸؍ صنعتی گروپس  نے مثبت نمو درج کی۔ اس دوران کئی اہم صنعتوں نے صنعتی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کیا۔اعداد و شمار کے مطابق  برقی آلات کی تیاری  میں سب سے زیادہ  ۹ء۳۰؍ فیصد  اضافہ ہوا، جبکہ  مشینری اور آلات کی تیاری میں تقریباً  ۳ء۲۵؍ فیصد  اور  موٹر گاڑیوں کی تیاری  میں ۲ء۲۵؍ فیصد  کی مضبوط ترقی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ ربڑ و پلاسٹک مصنوعات، کمپیوٹر، برقی اور بصری آلات، دھاتی مصنوعات اور ٹیکسٹائل سمیت کئی شعبوں میں بھی پیداوار بڑھی۔ 
مینوفیکچرنگ شعبے کی یہ کارکردگی ہندوستانی صنعتی سرگرمی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ شعبہ سرمایہ کاری، برآمدات، پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اگست میں  بجلی اور گیس کی فراہمی  کے شعبے میں بھی زبردست کارکردگی دیکھنے میں آئی۔ اس شعبے کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر۳ء۱۲؍ فیصد  اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو صنعتی سرگرمی میں مجموعی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس  کان کنی اور معدنیات کے شعبے  کی پیداوار میں اگست کے دوران ۶ء۵؍ فیصد کمی  درج کی گئی۔ جولائی میں بھی کان کنی کے شعبے میں معمولی کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ 
 استعمال پر مبنی درجہ بندی کے مطابق  کیپٹل گڈز  یعنی کارخانوں اور صنعتی یونٹس میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات کی پیداوار میں بھی اگست کے دوران مضبوط اضافہ ہوا۔ اس شعبے کی ترقی کو صنعتی سرمایہ کاری کے رجحان کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مشینری کی طلب میں اضافہ عام طور پر پیداواری صلاحیت بڑھانے اور نئے صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری سے وابستہ ہوتا ہے۔ کیپٹل گڈز کی پیداوار میں اضافہ مستقبل میں صنعتی توسیع، روزگار اور آمدنی کے مواقع پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’السلام علیکم‘‘: کرسٹیانو رونالڈو جونیئر نے عربی بول کر مداحوں کو حیران کردیا

اگست میں  کنزیومر ڈیوریبلز  یعنی ایسی پائیدار صارف اشیا جن میں الیکٹرانک سامان، فریج اور ٹیلی ویژن شامل ہیں، کی پیداوار میں  ۱ء۱۱؍فیصد  اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے صارفین کی طلب میں بہتری کا اشارہ ملتا ہے۔ دوسری جانب  کنزیومر نان ڈیوریبلز ، جن میں صابن، کاسمیٹکس اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا شامل ہیں، کی پیداوار میں  ۱ء۲؍ فیصد  اضافہ ہوا۔ انفراسٹرکچر اور تعمیراتی اشیا  کے شعبے میں اگست کے دوران ۴ء۶؍ فیصد  اضافہ درج کیا گیا۔ اس شعبے کی کارکردگی سڑکوں، شاہراہوں، بندرگاہوں، ریلوے اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔
صنعتی پیداوار میں مجموعی طور پر ۸ ؍فیصد کی ترقی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ اور صنعتی صلاحیت میں اضافے پر توجہ دے رہی ہے۔ صنعتی پیداوار میں مسلسل مضبوطی سے معیشت میں سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں کے رجحان کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ نئی آئی پی پی  سیریز میں  بنیادی سال  ۲۳۔۲۰۲۲ء رکھا گیا ہے، جسے وزارتِ شماریات نے صنعتی شعبے کی موجودہ ساخت اور سرگرمیوں کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کرنے کے لیے متعارف کرایا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK