امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل نے نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی مالیاتی بازاروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل نے نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی مالیاتی بازاروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل نے نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی مالیاتی بازاروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں توانائی کی فراہمی، مہنگائی اور شرحِ سود کے حوالے سے تشویش بڑھنے کے باعث کئی بڑے حصص بازاروں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دوبارہ شروع کرنے اور جنگ بندی سے متعلق سات روزہ تجویز مسترد کردی۔ اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ خدشات بڑھ گئے کہ خطے میں کشیدگی جلد کم نہ ہوئی تو عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔
امریکہ ۔ایران کشیدگی کا سب سے فوری اثر خام تیل کی منڈی پر پڑا۔ پیر کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں تقریباً ۲؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور قیمت ۱۰۶؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق رواں ماہ برینٹ کی قیمت میں تقریباً ۱۸؍ فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی تقریباً ۹۳؍ سے ۹۴؍ ڈالر فی بیرل کے آس پاس پہنچ گیا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس خطے میں کسی بھی طویل تعطل سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ مارکیٹ کے لیے اہم تشویش بن گیا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی کے اخراجات بڑھانے کے ساتھ مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ کرسکتی ہیں۔
ایشیا میں بھی کاروبار کے دوران کئی بڑے اشاریے دباؤ میں رہے۔ جاپان کا نکیئی تقریباً ۱ء۰؍فیصد نیچے آیا، جنوبی کوریا کا کوسپی ۱ء۲؍ فیصد گرا، جبکہ شنگھائی کمپوزٹ میں تقریباً ۷ء۱؍فیصد کمی دیکھی گئی۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ تقریباً ۶ء۰؍ فیصد اضافے کے ساتھ نسبتاً بہتر رہا۔ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کس سمت جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کب بحال ہوتی ہے۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتی ہیں۔
جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کے ساتھ امریکی سرکاری بانڈز کی پیداوار بھی بلند سطح پر برقرار رہی۔ امریکہ کی ۱۰؍ سالہ ٹریژری ییلڈ ۲۱ء۵؍ فیصد کے قریب رہی، جبکہ ۲؍سالہ ییلڈ تقریباً ۹۱ء۴؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ ۳۰ ؍ سالہ ٹریژری ییلڈ۵۱ء۵؍ فیصد کے قریب رہی، جو بلند قرض گیری لاگت کی عکاسی کرتی ہے۔ بلند بانڈ ییلڈز کمپنیوں، خصوصاً ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کی ان کمپنیوں کے لیے قرض حاصل کرنے کی لاگت بڑھا سکتی ہیں جو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے مالی وسائل استعمال کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بلند ییلڈز حصص کی قیمتوں کے جائزے پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سمے رائنا نے آیوشمان کھرانہ سے کہا، ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘ کیلئے ری فنڈ ہی چاہئے
دوسری جانب امریکی ڈالر بھی مضبوط رہا۔ ڈالر انڈیکس تقریباً ۱۵ء۱۰۱؍کی سطح پر رہا اور ستمبر میں اب تک تقریباً ۱.۷ فیصد اضافے کی راہ پر ہے۔ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں ڈالر کے مقابلے میں قدرے کمزور ہوئے۔ دلچسپ طور پر عالمی غیر یقینی کے باوجود سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ بلند امریکی بانڈ ییلڈز اور مضبوط ڈالر نے سونے پر دباؤ ڈالا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پیر کو سونے کی قیمت تقریباً ۴۲۶۵؍ ڈالر فی اونس کے آس پاس رہی، جبکہ چاندی بھی کمزور ہوئی۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مرکزی بینکوں کے لیے بھی صورتحال پیچیدہ کردی ہے۔ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہتا ہے تو مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینک شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھنے یا مزید اضافے پر غور کرسکتے ہیں۔مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق اکتوبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس صورت میں قرض کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے اور حصص سمیت مختلف خطرے والے اثاثوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’السلام علیکم‘‘: کرسٹیانو رونالڈو جونیئر نے عربی بول کر مداحوں کو حیران کردیا
امریکہ۔ایران کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہندوستانی حصص بازار پر بھی نمایاں رہا۔ ۲۸ ؍ستمبر کو سینسیکس ۱۱۲۴؍ پوائنٹس سے زیادہ گر کر تقریباً چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ نفٹی بھی ۲۲۸۰۰؍ کی سطح سے نیچے بند ہوا۔ ہندوستانی بازار میں مسلسل ساتویں ہفتے گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ ہندوستان دنیا کے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل، افراطِ زر اور کمپنیوں کے منافع پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ روپے پر بھی تیل کی بلند قیمتوں اور عالمی خطرات سے دباؤ دیکھا گیا۔ عالمی بازاروں میں اب امریکہ کے مہنگائی، روزگار، مجموعی گھریلو پیداوار اور ذاتی کھپت سے متعلق آنے والے اعداد و شمار بھی اہم ہوں گے۔ سرمایہ کار ان اعداد و شمار کے ذریعے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ شرحِ سود کے بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔ مجموعی طور پر امریکہ۔ایران مذاکرات میں پیش رفت، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، خام تیل کی قیمت، امریکی بانڈ ییلڈز اور مرکزی بینکوں کی شرحِ سود سے متعلق پالیسی عالمی مالیاتی بازاروں کے لیے آنے والے دنوں میں اہم عوامل رہیں گے۔