Updated: September 28, 2026, 7:07 PM IST
| Moradabad
اتر پردیش کے ضلع مرادآبادمیں واقع مصطفیٰ مسجد کی مسماری کے سلسلے میں مرادآبادڈویلپمنٹ اتھارٹی نےمسجد کے نام نوٹس جاری کیا ہے۔ اس ضمن میںانتظامیہ کی جانب سے الہٰ آبا د ہائی کورٹ کو ایک سماعت کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ بغیر کسی بھی طرح کے باضابطہ حکم کے مسجد پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اس معاملے میں جمعیتہ علماء ہند کی جانب سے قانونی امدادبھی فراہم کی جارہی ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
مرادآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مرادآباد کے پاک باڑہ علاقے میں واقع مصطفیٰ مسجد کے خلاف اس وقت تک مسماری کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جب تک کہ کوئی باضابطہ مسماری کا حکم جاری نہ کر دیا جائے۔ یہ یقین دہانی ۲۴؍ ستمبر کو اس درخواست کی سماعت کے دوران کرائی گئی جس میں ۲۱؍ اگست ۲۰۲۶؍ کو مسجد کو بھیجے گئے وجہ بتاؤ نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ یہ درخواست مسجد کی نمائندگی کرتے ہوئے ذیشان احمد فرید نے دائر کی تھی۔ یہ نوٹس مرادآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نامزد افسر کی جانب سے اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳؍ کی دفعہ ۲۷؍ کے تحت مسجد کے مینیجر کو ۲۱؍ اگست ۲۰۲۶؍ کو جاری کیا گیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت انتظامیہ کی جانب سے ان تعمیرات کو مسمار کرنے کی کارروائی شروع کی جاتی ہے جنہیں غیر قانونی سمجھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آر ایف ٹی آئی میں طلبہ پر حملہ، انوراگ کشیپ سمیت کئی فلمی شخصیات کی مذمت
نوٹس میں ایم ڈی اے کے حکام نے کہا تھا کہ مصطفیٰ مسجد پاک باڑہ میں ٹی ایم یویونیورسٹی کے قریب، دہلی روڈ، محلہ عیدگاہ، زون ۱؍ ، ایس زیڈ -۱؍ میں تقریباً ۳۰۰؍ مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ تاہم، موقع پر ایم ڈی اے کی ٹیم کو اس تعمیر کی منظوری سے متعلق کوئی دستاویزات نہیں دکھائے گئے۔ ٹی ایم یو یونیورسٹی کے ٹھیک سامنے واقع مصطفیٰ مسجد کئی دہائیوں پرانی ہے، لیکن ایم ڈی اے کے نوٹس میں ۲۰؍ اگست ۲۰۲۶؍ کو اس مبینہ غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیر کے شروع ہونے کی تاریخ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ تعمیر اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳؍ کی دفعات ۱۴؍ اور ۱۵؍ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے اجازت لئے بغیر کی گئی ہے۔ نوٹس کے آخر میں ہدایت دی گئی تھی کہ مسجد کے مینیجر ۳؍ ستمبر ۲۰۲۶؍ کو دوپہر ۱؍ بجے تک مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مجاز افسر کے سامنے پیش ہوں اور وضاحت کریں کہ مبینہ غیر قانونی تعمیر کو مسمار کرنے کا حکم کیوں نہ جاری کیا جائے۔
جمعیتہ علماء ہند کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، تنظیم اپنے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر مسجد کی منتظمہ کمیٹی کو قانونی امداد فراہم کر رہی ہے۔ عدالت میں مسجد کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ششی نندن اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ آدتیہ پریہار پیش ہوئے، جبکہ ایڈوکیٹ محمد طاہر حکیم اور ایڈوکیٹ محمد نظام پاشا نے قانونی معاونت فراہم کی۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل ششی نندن نے دلیل دی کہ ۲۱؍ اگست کے نوٹس میں درخواست گزار کو جواب دینے کیلئے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جواب داخل کرنے کیلئے کم از کم ۱۵؍ دن کا وقت ملنا چاہیے تھا، جبکہ نوٹس میں ۳؍ ستمبر کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ نوٹس میں متعلقہ زمین کی واضح تفصیلات نہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی اس رقبے کی نشاندہی کی گئی ہے جسے مسمار کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ درخواست گزار کی طرف سے جواب جمع کرانے سے قبل بعض ضروری دستاویزات کی فراہمی کیلئے ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: یو پی آئی پر ایم ڈی آر کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ کا فوری روک سے انکار
ایم ڈی اے کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ایم سی چترویدی نے اعلیٰ حکام سے ہدایات حاصل کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ جب تک مسماری کا باضابطہ حکم پاس نہیں ہو جاتا، تب تک مسجد کو گرانے کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس کنال روی سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت ۲۸؍ ستمبر کیلئے مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ۷؍ جولائی کو انتظامیہ نے ٹی ایم یو یونیورسٹی کے قریب واقع بابا فولاد شاہ کی درگاہ کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا تھااور یہ الزام لگایا تھا کہ یہ درگاہ تالاب کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کر کے بنائی گئی تھی۔