Updated: October 26, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
ہندوستان کی دفتری جائیدادوں کی مارکیٹ میں ۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران مضبوط سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ بینکنگ، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے (بی ایف ایس آئی) کے ساتھ لچکدار دفتری جگہیں فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
ہندوستان کی دفتری جائیدادوں کی مارکیٹ میں ۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران مضبوط سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ بینکنگ، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے (بی ایف ایس آئی) کے ساتھ لچکدار دفتری جگہیں فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ورک پلیس سالیوشنز کمپنی ویسٹیئن کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اس سہ ماہی میں ہندوستان میں دفتری جگہوں کے استعمال اور لیز پر لینے کی مجموعی مقدار ۲؍ کروڑ۳۷؍ لاکھ مربع فٹ رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ۲۰؍فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث سہ ماہی بنیاد پر یہ سرگرمی تقریباً مستحکم رہی۔
رپورٹ کے مطابق، تیسری سہ ماہی میں دفتری جگہوں کی لیزنگ کا یہ اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ شدہ حجم ہے۔ بڑے شہروں میں اعلیٰ معیار کے گریڈ اے دفاتر کی مانگ مضبوط رہی، جس سے ملک کی تجارتی جائیدادوں کی مارکیٹ میں سرگرمیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں دفتری جگہوں کو لیز پر لینے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کا شعبہ اب بھی سب سے بڑا حصہ دار رہا، لیکن مجموعی لیزنگ میں اس کا حصہ کم ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق، آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کے شعبے کا حصہ ۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں ۴۱؍ فیصد اور ۲۰۲۵ء کی تیسری سہ ماہی میں ۳۱؍ فیصد تھا، جو رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں گھٹ کر ۲۳؍ فیصد رہ گیا۔
یہ بھی پڑھئے:ایپل میں ۴۰۰؍ سے زائد ملازمتیں ختم، نئے سی ای او جان ٹرنس کی بڑی کارروائی
اس کے برعکس، بینکنگ، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے کی دفتری جگہوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس شعبے کا حصہ گزشتہ سہ ماہی کے ۸؍ فیصد اور ایک سال پہلے کے ۱۵؍ فیصد سے بڑھ کر ۲۰؍ فیصد ہوگیا۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ دفتری جائیدادوں کی مارکیٹ میں مانگ اب صرف آئی ٹی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ مالیاتی ادارے بھی توسیع کے لیے زیادہ جگہ حاصل کر رہے ہیں۔ لچکدار دفتری جگہیں فراہم کرنے والی کمپنیوں اور منظم دفاتر کے آپریٹرس نے بھی تیسری سہ ماہی میں لیزنگ کی سرگرمیوں کو سہارا دیا۔ رپورٹ کے مطابق، مجموعی دفتری لیزنگ میں لچکدار دفاتر اور منظم دفتری جگہوں کا حصہ ۲۰؍ فیصد رہا۔ اگرچہ یہ ۲۰۲۶ءکی دوسری سہ ماہی کے ۲۲؍ فیصد سے کچھ کم تھا، لیکن گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی کے۱۴؍ فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہا۔
یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائلو اوپن میں ہندوستانی چیلنج کی قیادت کریں گے
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بینکنگ، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے کے ساتھ لچکدار دفتری جگہیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کا مجموعی حصہ ۴۰؍ فیصد تک پہنچ گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں اپنی کاروباری ضروریات کے مطابق دفاتر کے انتخاب میں زیادہ لچکدار انتظامات کو اہمیت دے رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کے مختلف شہروں میں دفتری جگہوں کی مانگ کے رجحانات الگ الگ رہے۔ چنئی، حیدرآباد اور کولکاتا میں بینکنگ، مالیاتی خدمات اور بیمہ کی کمپنیوں نے دفتری جگہوں کی مانگ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب، پونے اور قومی دارالحکومت خطے (این سی آر) میں لچکدار دفتری جگہیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کی لیزنگ سرگرمیاں سب سے زیادہ رہیں۔بنگلورو اور ممبئی میں دفتری جگہوں کی زیادہ تر مانگ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے آئی۔ اس طرح مختلف شہروں میں کاروباری شعبوں کی ضروریات کے مطابق دفتری جائیدادوں کی مانگ میں فرق دیکھا گیا۔ مجموعی طور پر، ویسٹیئن کی رپورٹ ہندوستان کے دفتری جائیدادوں کے شعبے میں مضبوط سالانہ ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔ بینکنگ اور مالیاتی خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی مانگ، لچکدار دفتری انتظامات کی مقبولیت اور بڑے شہروں میں اعلیٰ معیار کے دفاتر کی ضرورت اس مارکیٹ کے اہم رجحانات بن کر سامنے آئے ہیں۔ تاہم، عالمی اور جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورت حال مستقبل میں لیزنگ کی رفتار پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔