• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلوکار کرس براؤن برطانیہ میں نائٹ کلب حملے کے مقدمے میں جیل جانے سے بچ گئے

Updated: October 26, 2026, 9:31 PM IST | London

امریکی آر اینڈ بی گلوکار کرس براؤن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں میوزک پروڈیوسر ابراہام ڈیاو پر شراب کی بوتل سے حملہ کرنے کے معاملے میں آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم عدالت نے یہ سزا ۱۲؍ ماہ کے لیے معطل کر دی، جس کے باعث گلوکار کو فوری طور پر جیل نہیں جانا پڑے گا۔

Chris Brown.Photo:X
کرس براؤن۔ تصویر:ایکس

امریکی آر اینڈ بی گلوکار کرس براؤن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں میوزک پروڈیوسر ابراہام ڈیاو پر شراب کی بوتل سے حملہ کرنے کے معاملے میں آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم عدالت نے یہ سزا ۱۲؍ ماہ کے لیے معطل کر دی، جس کے باعث گلوکار کو فوری طور پر جیل نہیں جانا پڑے گا۔ لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں پیر، ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو سزا سناتے ہوئے جج ٹونی بامگارٹن نے کہا کہ یہ عوامی مقام پر تشدد کا سنگین واقعہ تھا اور کرس براؤن کی شہرت، مالی کامیابی یا پیشہ ورانہ حیثیت انہیں قانون کے تحت کسی خصوصی رعایت کا حق نہیں دیتی۔
  ۳۷؍سالہ گلوکار نے جولائی ۲۰۲۶ء میں تشدد اور ہنگامہ آرائی سے متعلق الزام قبول کیا تھا۔ یہ معاملہ ۱۹؍ فروری ۲۰۲۳ء کو لندن کے مے فیئر علاقے میں واقع ٹیپ نامی نجی نائٹ کلب میں پیش آیا، جہاں استغاثہ کے مطابق کرس براؤن نے اپنے سابق دوست اور میوزک پروڈیوسر ابراہام ڈیاو کے سر پر شراب کی شیشے کی بوتل سے دو مرتبہ وار کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران نگرانی کیمروں کی فوٹیج بھی دکھائی گئی، جس میں گلوکار کو بوتل سے حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
 استغاثہ کے مطابق، حملے کا دورانیہ تقریباً ۲۰؍ سیکنڈ تھا اور اس دوران ڈیاو کو سر پر چوٹ لگی۔ کرس براؤن کے ساتھ موجود ان کے صوتی تربیت کار اومولولو اکین لولو نے بھی اس واقعے میں حصہ لیا۔ عدالت نے اکین لولو کو چار ماہ قید کی سزا سنائی، جسے ۱۲؍ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ دونوں افراد کو عدالتی اخراجات کی مد میں ۱۵۰۰؍ پاؤنڈ فی کس ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایپل میں ۴۰۰؍ سے زائد ملازمتیں ختم، نئے سی ای او جان ٹرنس کی بڑی کارروائی

کرس براؤن اور اومولولو اکین لولو نے ابتدا میں جسمانی طور پر شدید نقصان پہنچانے کی کوشش اور حملے سے متعلق زیادہ سنگین الزامات سے انکار کیا تھا، تاہم جولائی ۲۰۲۶ء میں دونوں نے تشدد اور ہنگامہ آرائی کا الزام قبول کر لیا۔ جرم قبول کرنے کے بعد دیگر بعض الزامات پر کارروائی آگے نہیں بڑھی۔ جج نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ شیشے کی بوتل سے کسی شخص کے سر پر بار بار حملہ کرنا واضح طور پر خطرناک عمل ہے، جس سے اس سے کہیں زیادہ سنگین چوٹیں لگ سکتی تھیں۔ عدالت نے سزا معطل کرتے ہوئے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ کرس براؤن نے جرم قبول کیا تھا اور ان کے حق میں کچھ تخفیفی عوامل پیش کیے گئے تھے۔ تاہم، معطل سزا کا مطلب یہ نہیں کہ سزا ختم ہو گئی ہے؛ اگر وہ معطلی کی مدت میں دوبارہ جرم کرتے ہیں تو انہیں قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائلو اوپن میں ہندوستانی چیلنج کی قیادت کریں گے

کرس براؤن کو مئی ۲۰۲۵ء میں برطانیہ واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ اپنے دورۂ موسیقی کے سلسلے میں ملک پہنچے تھے۔ بعد میں انہیں پانچ ملین پاؤنڈ کی ضمانتی رقم سے متعلق شرائط کے تحت رہا کیا گیا، جس کے بعد ان کا عالمی دورۂ موسیقی جاری رہ سکا۔ عدالت میں فیصلے کے بعد گلوکار کے مداحوں نے ان کے باہر آنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ کرس براؤن اس سے پہلے بھی قانونی تنازعات میں ملوث رہے ہیں، جن میں ۲۰۰۹ء میں گلوکارہ ریحانہ پر حملے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ لندن کے اس مقدمے کے فیصلے نے ایک بار پھر ان کی موسیقی کے کریئر کے ساتھ ان کے قانونی معاملات کو بھی عالمی خبروں میں نمایاں کر دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK