مشکل حالات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میچوں کی سیریز کے دو مقابلے جیت چکی ہندوستانی ٹیم منگل کو ہنری اسٹیڈیم میں ہونے والے تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں جیت درج کرکے سیریز اپنے نام کرنے کے ارادے سے اترے گی۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 9:06 PM IST | Wellington
مشکل حالات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میچوں کی سیریز کے دو مقابلے جیت چکی ہندوستانی ٹیم منگل کو ہنری اسٹیڈیم میں ہونے والے تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں جیت درج کرکے سیریز اپنے نام کرنے کے ارادے سے اترے گی۔
مشکل حالات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میچوں کی سیریز کے دو مقابلے جیت چکی ہندوستانی ٹیم منگل کو ہنری اسٹیڈیم میں ہونے والے تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں جیت درج کرکے سیریز اپنے نام کرنے کے ارادے سے اترے گی۔ وہیں میزبان نیوزی لینڈ پر سیریز میں واپسی کرنے کا دباؤ ہوگا۔ ہندوستان کو پہلی جیت ۲۲۶؍ رن کا کامیابی کے ساتھ تعاقب کرتے ہوئے ملی، جو مردوں کی بین الاقوامی ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں ہندوستان کا سب سے بڑا کامیاب تعاقب ہے۔ سنجو سیمسن کے ۶۷؍ رن نے اننگز کو رفتار دی، جبکہ شریاس ایّر اور نمن دھیر کی کارکردگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مطلوبہ رن ریٹ اتنا زیادہ نہ ہوجائے کہ اسے حاصل کرنا ناممکن ہو جائے۔ یہ ہندوستان کی بلے بازی کی گہرائی کا شاندار مظاہرہ تھا، ساتھ ہی اس بات کی یاد دہانی بھی کہ کامیاب تعاقب کے لیے صرف ایک بلے باز نہیں بلکہ کئی کھلاڑیوں کو ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے۔
دوسرا مقابلہ ایک مختلف طرح کا امتحان لے کر آیا۔ ۱۸۱؍ رن کا تعاقب کرتے ہوئے ہندوستان کے پانچ وکٹ محض ۷۰؍ رن پر گر گئے تھے اور ایسا لگنے لگا تھا کہ ہندوستان کی برتری ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ سینٹنر کی اسپن کے ذریعے نیوزی لینڈ نے دباؤ بنا دیا تھا اور ہندوستانی بالائی ترتیب کے بلے باز مضبوط بنیاد رکھنے میں ناکام رہے تھے۔ پھر تلک ورما نے ۲۶؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۵۱؍ رن بنائے، جس میں نتیش کمار ریڈی نے ان کا اچھا ساتھ دیا اور اس شراکت نے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔ ساتویں وکٹ کے لیے ان کی ۶۹؍ رن کی ناٹ آؤٹ شراکت نے دکھا دیا کہ ہندوستان میں مشکل حالات سے نکلنے کا حوصلہ موجود ہے۔ نمن دھیر کے تیز رفتار ۳۱؍ رن نے بھی اس تعاقب کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کیا۔ نیوزی لینڈ کے لیے سبق بالکل واضح ہے، وکٹ لینا تو صرف آدھا کام ہے۔ حریف ٹیم کو دوبارہ سنبھلنے سے روکنا بھی ضروری ہے۔ ہندوستان کے پانچ وکٹ گرنے کے باوجود اسے کامیابی حاصل کرنے دینا میزبان ٹیم کے لیے کافی مایوس کن رہا ہوگا۔
میزبان ٹیم کو کھلاڑیوں کی دستیابی سے متعلق مسائل کا بھی سامنا ہے۔ تجربہ کار تیز گیند باز میٹ ہنری باقی ماندہ ٹی ۲۰؍ میچوں سے باہر ہوگئے ہیں، جبکہ لوکی فرگیوسن ویلنگٹن میں ہونے والے میچ میں نہیں کھیل سکیں گے۔ ان کی غیر موجودگی سے نیوزی لینڈ کے تیز گیند بازی کے شعبے میں تجربے اور قابلِ اعتماد متبادل کھلاڑیوں کی کمی ہوگئی ہے اور ایسے وقت میں جب ٹیم مزید کسی دھچکے کو برداشت نہیں کرسکتی، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ہندوستان کے سامنے بھی ٹیم کے انتخاب کے تعلق سے ایک چیلنج ہے۔ وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن دائیں پیر کے پٹھوں میں کھنچاؤ کے باعث تیسرے میچ سے باہر ہوگئے ہیں۔ اس وجہ سے ٹیم انتظامیہ کو اپنی بالائی ترتیب کے بلے بازوں کے امتزاج پر دوبارہ غور کرنا پڑ رہا ہے۔ کمار کشاگرا متبادل کھلاڑی کے طور پر ٹیم کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے باوجود مہمان ٹیم اپنے درمیانی ترتیب کے بلے بازوں کی فارم سے اعتماد حاصل کرسکتی ہے۔ تلک نے دکھایا ہے کہ وہ اننگز پر اپنا کنٹرول کھوئے بغیر تیزی سے رن بنا سکتے ہیں، جبکہ نتیش بلے بازی میں گہرائی فراہم کرنے کے ساتھ تیز گیند بازی کا ایک کارآمد متبادل بھی پیش کرتے ہیں۔ ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں اس طرح کی لچک بہت اہم ہوتی ہے، جہاں ایک ہی اوور میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔
Getting into the groove in Wellington 💙 #TeamIndia | #NZvIND https://t.co/pBJHVSyvR5
— BCCI (@BCCI) October 26, 2026
نیوزی لینڈ کے لیے گلین فلپس ایک اہم کھلاڑی بنے ہوئے ہیں۔ دوسرے میچ میں ان کی ۷۰؍ رن کی اننگز اور بیون جیکبس کے ۵۸؍ رن کی مدد سے میزبان ٹیم پانچ وکٹ پر ۱۸۰؍رن بنانے میں کامیاب رہی۔ تاہم، اچھا اسکور اسی وقت اہمیت رکھتا ہے جب اس کے بعد گیند بازی بھی اتنی ہی شاندار ہو۔ اس اسکور کا دفاع نہ کر پانا سینٹنر کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔ انہیں امید ہوگی کہ ان کے تیز گیند باز ابتدا میں وکٹ حاصل کریں اور فیلڈر دباؤ بنا کر اسے وکٹ میں تبدیل کریں۔ خود سینٹنر بھی اس مقابلے میں ایک بار پھر اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ دوسرے میچ میں ان کے چار وکٹوں نے دکھایا کہ وہ کس طرح اپنی رفتار اور گیند بازی کی سمت میں تبدیلی کرکے حریف بلے بازوں کو پریشان کرسکتے ہیں۔ ہندوستانی بلے بازوں کو ان کے خلاف زبردستی شاٹ کھیلنے کے لالچ سے بچنا ہوگا۔ اس کے بجائے انہیں اپنا وکٹ آسانی سے گنوائے بغیر رن بنانے کے مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔ ہندوستان کو امید ہوگی کہ اس کے گیند باز اہم درمیانی اووروں میں فلپس اور نیوزی لینڈ کے درمیانی ترتیب کے بلے بازوں کو قابو میں رکھ سکیں۔ اگر میزبان ٹیم کو ایک بار پھر دباؤ میں اپنی اننگز سنبھالنی پڑی تو اہم مواقع پر وکٹ لینے کی عرشدیپ سنگھ کی صلاحیت اور ہندوستان کے پاس موجود اسپن گیند بازی کے متبادل کافی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایپل میں ۴۰۰؍ سے زائد ملازمتیں ختم، نئے سی ای او جان ٹرنس کی بڑی کارروائی
ویلنگٹن ایک نیا چیلنج پیش کرتا ہے۔ ہنری اسٹیڈیم کے حالات نئی گیند کے ساتھ تیز گیند بازوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ ہوا اور بارش کے امکان سے گیند بازی کی حکمت عملی اور فیلڈنگ متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے ٹاس اہم ہوسکتا ہے، حالانکہ کوئی بھی کپتان حالات پر حد سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہے گا، کیونکہ آخرکار میدان میں حکمت عملی کو درست طریقے سے نافذ کرنا ہی سب سے فیصلہ کن عنصر ہوتا ہے۔ امید ہے کہ ہندوستان اپنی جیت دلانے والی بنیادی ٹیم کو برقرار رکھے گا، تاہم ایشان کشن کی غیر موجودگی کے بعد ٹیم انتظامیہ کو بلے بازی کی ترتیب طے کرنا ہوگی۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کو ہنری اور فرگیوسن کے بغیر ایک مؤثر تیز گیند بازی کا شعبہ تیار کرنا ہوگا اور اس کے باقی گیند بازوں کو زیادہ مستقل مزاجی دکھانی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائلو اوپن میں ہندوستانی چیلنج کی قیادت کریں گے
اس مقابلے میں ہندوستان کی بلے بازی کی گہرائی اور نیوزی لینڈ کی ابتدا میں وکٹ حاصل کرنے کی کوشش کے درمیان مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ اگر مہمان ٹیم (نیوزی لینڈ) ایک بار پھر بالائی ترتیب کے بلے بازوں کے جلد آؤٹ ہونے سے بچ جاتی ہے تو اننگز کے آخری مرحلے میں واپسی کرنے اور تیزی سے رن بنانے کی اس کی صلاحیت اسے دوبارہ برتری دلا سکتی ہے۔ لیکن اگر سینٹنر اور تیز گیند باز ہندوستانی درمیانی ترتیب کے بلے بازوں کو جم جانے سے پہلے ہی لڑکھڑانے پر مجبور کردیتے ہیں تو یہ مقابلہ سیریز کے موجودہ اسکور سے کہیں زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کو اس مقابلے میں مضبوط دعوے دار مانا جا رہا ہے اور اس کی وجہ بھی جائز ہے، کیونکہ اس نے مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود دونوں میچ جیتے ہیں۔ لیکن ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ گیند بازی کا ایک شاندار دور، ایک بڑی شراکت یا چند مواقع گنوا دینا، یہ سب کچھ ہی منٹوں میں کھیل کا رخ بدل سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ کے لیے منگل کا دن سیریز میں اپنی امیدیں برقرار رکھنے کا ہے۔ وہیں ہندوستان کے لیے یہ اپنی مضبوط پوزیشن کو ایک فیصلہ کن جیت میں تبدیل کرنے کا موقع ہے۔ مہمان ٹیم نے دکھایا ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی جیت سکتی ہے۔ اب وہ یہ ثابت کرنا چاہے گی کہ وہ حریف ٹیم کو واپسی کا کوئی موقع دیے بغیر سیریز اپنے نام کرسکتی ہے۔