Updated: October 26, 2026, 10:00 PM IST
| Mumbai
معروف موسیقار اے آر رحمان کی آنے والی فلم ’’رامائن: رائز آف اے لیجنڈ‘‘ کے نئے گیت ’منگل رنگ‘ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ۲۵؍ اکتوبر کو جاری ہونے والے اس گیت کی موسیقی میں قوالی اور صوفیانہ انداز کے مبینہ اثرات پر بعض سامعین نے اعتراض کیا ہے۔
رحمان اور رامائن۔ تصویر:آئی این این
معروف موسیقار اے آر رحمان کی آنے والی فلم ’’رامائن: رائز آف اے لیجنڈ‘‘ کے نئے گیت ’منگل رنگ‘ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ۲۵؍ اکتوبر کو جاری ہونے والے اس گیت کی موسیقی میں قوالی اور صوفیانہ انداز کے مبینہ اثرات پر بعض سامعین نے اعتراض کیا ہے۔ یہ گیت بھگوان رام اور ماتا سیتا کی شادی کی خوشیوں اور سیتا کی ایودھیا آمد کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔ گیت کو اریجیت سنگھ اور شریا گھوشال نے اپنی آواز دی ہے، اس کے بول کمار وشواس نے لکھے ہیں، جبکہ موسیقی کی ترتیب اے آر رحمان نے دی ہے۔ فلم میں رنبیر کپور بھگوان رام اور سائی پلوی ماتا سیتا کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
گیت ریلیز ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس کی موسیقی میں قوالی اور صوفیانہ رنگ کی موجودگی پر سوال اٹھائے۔ بعض سامعین کا کہنا ہے کہ رامائن جیسے مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے حامل رزمیہ قصے پر بننے والی فلم کی موسیقی میں روایتی ہندوستانی سازوں اور قدیم ہندوستانی موسیقی کے انداز کو زیادہ نمایاں ہونا چاہیے تھا۔ ان صارفین نے ستار، وینا اور مردنگ جیسے سازوں کے استعمال کے ساتھ سنسکرت زبان کے الفاظ کو زیادہ جگہ دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائلو اوپن میں ہندوستانی چیلنج کی قیادت کریں گے
کچھ لوگوں نے ’منگل رنگ‘ کی موسیقی کا موازنہ اے آر رحمان کے سابقہ گیتوں سے بھی کیا۔ بالخصوص فلم ’راک اسٹار‘ کے مقبول صوفیانہ گیت ’کن فیکون‘ اور تمل فلم ’کنڈوکونڈین کنڈوکونڈین‘ کے گیت ’اینا سولّا پوگِرائے‘ سے اس کے انداز کی مماثلت پر تبصرے کیے گئے۔ تاہم، یہ موازنہ سوشل میڈیا صارفین کی ذاتی آرا پر مبنی ہے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گیت کی موسیقی کسی سابقہ تخلیق کی نقل ہے۔
جہاں بعض سامعین نے موسیقی کے انتخاب پر تنقید کی، وہیں کچھ لوگوں نے اس گیت کو قوالی قرار دینے سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی گیت میں طبلے، اجتماعی گائیکی یا مخصوص لے کا استعمال بذاتِ خود اسے قوالی نہیں بناتا۔ ان کے مطابق ہندوستانی موسیقی کی مختلف روایتوں میں راگوں، تالوں اور سازوں کا باہمی اشتراک رہا ہے، اس لیے کسی گیت کے انداز پر اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ اس بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے رکھا ہے کہ مذہبی داستانوں اور تاریخی واقعات پر مبنی فلموں میں موسیقی کتنی حد تک روایتی ہونی چاہیے اور جدید موسیقی کے تجربات کو کس حد تک جگہ دی جا سکتی ہے۔ ایک طبقہ کہانی کے ثقافتی پس منظر سے ہم آہنگ موسیقی کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ دوسرا تخلیقی آزادی اور نئے انداز کے امتزاج کو اہم سمجھتا ہے۔
اے آر رحمان نے فلم کی موسیقی پر ہونے والے ردعمل کے حوالے سے کہا کہ موسیقی تیار کرنے کے دوران بہت زیادہ محنت، غور و فکر اور بار بار تبدیلیوں کا عمل مکمل کیا جاتا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والے ہر تبصرے کو دیکھنے کی توانائی باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کام پوری دیانت داری سے کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ لوگ ان کی تخلیق کو سراہیں گے۔ رحمان کے مطابق’ ’رامائن‘‘جیسی عظیم داستان سے وابستہ ہونا ان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فلم کے گیت پانچ زبانوں میں تیار کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فن کار کو اپنی پرانی کامیابیوں تک محدود رہنے کے بجائے مسلسل نئے تجربات کرتے رہنا چاہیے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موسیقی میں جدت اور تخلیقی ارتقا کو اہمیت دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیٹ فلکس کے صارفین اب پہلے سے کم وقت تک فلمیں اور سیریز دیکھ رہے ہیں
نتیش تیواری کی ہدایت کاری اور نمیت ملہوترا کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’رامائن: رائز آف اے لیجنڈ‘‘ دو حصوں پر مشتمل سنیما کی پیش کش ہے۔ فلم میں رنبیر کپور بھگوان رام، سائی پلوی ماتا سیتا، یش راون، روی دوبے لکشمن اور سنی دیول بھگوان ہنومان کے کردار میں نظر آئیں گے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، فلم کا پہلا حصہ دنیا بھر میں ۵؍نومبر ۲۰۲۶ءکو ریلیز کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ دوسرے حصے کی ریلیز دیوالی ۲۰۲۷ء کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ ’منگل رنگ‘ پر جاری بحث سے واضح ہے کہ فلم کی موسیقی بھی اس کے بڑے پیمانے اور مذہبی و ثقافتی موضوع کی وجہ سے خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ فلم ریلیز ہونے کے بعد ناظرین اے آر رحمان کی موسیقی اور روایتی داستان کی جدید پیش کش کو کس طرح قبول کرتے ہیں۔