Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کے سب سے دولت مند کاروباریوں نے ممبئی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے

Updated: August 14, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے سب سے امیر کاروباری خاندانوں کے لیے آئی آئی ٹی سب سے بڑا تعلیمی مرکز ہے تو تازہ ہورون انڈیا رپورٹ آپ کو حیران کر سکتی ہے۔ ۲۰۲۶ء کی ہورون رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ممبئی نے ہندوستان کے سب سے قیمتی خاندانی کاروباروں کے لیڈروں کی سب سے زیادہ تعداد تیار کی ہے۔

University Of Mumbai.Photo:INN
یونیورسٹی آف ممبئی ۔ تصویر:آئی این این

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے سب سے امیر کاروباری خاندانوں کے لیے  آئی آئی ٹی  سب سے بڑا تعلیمی مرکز ہے تو تازہ ہورون انڈیا  رپورٹ آپ کو حیران کر سکتی ہے۔ ۲۰۲۶ء کی  ہورون رپورٹ  کے مطابق  یونیورسٹی آف ممبئی  نے ہندوستان کے سب سے قیمتی خاندانی کاروباروں کے لیڈروں کی سب سے زیادہ تعداد تیار کی ہے۔
یونیورسٹی آف ممبئی کے ۲۷؍ سابق طلبہ (Alumni)  اس فہرست میں شامل خاندانی کاروباروں کے لیڈروں میں شامل ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس تعداد میں  ۱۰؍کا اضافہ  ہوا ہے۔ اس کے بعد  یونیورسٹی آف دہلی۱۹؍ سابق طلبہ کے ساتھ دوسرے اور یونیورسٹی آف کلکتہ ۱۷؍ سابق طلبہ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’آواراپن ۲‘‘ کیوں بنانا پڑی؟ مصنف بلال صدیقی نے راز سے پردہ اٹھایا

 ہورون کی یہ فہرست ہندوستان کے ۳۰۰؍ سب سے زیادہ قیمتی خاندانی کاروباروں  پر مشتمل ہے۔ ان تمام کاروباری خاندانوں کی مجموعی مالیت تقریباً۴۶ء۱؍ ٹریلین امریکی ڈالر، یعنی ۱۳۸؍ لاکھ کروڑ روپے  بتائی گئی ہے۔اگر ان تمام کاروباروں کو ایک ملک تصور کیا جائے تو ان کی مجموعی مالیت دنیا کی تقریباً ۱۸؍ویں سب سے بڑی معیشت  کے برابر بنتی ہے۔
 یونیورسٹی آف ممبئی کے سابق طلبہ میں ہندوستان  کے کئی بڑے کاروباری نام شامل ہیں، جن میں: کمار منگلم برلا،آدتیہ برلا گروپ،نیرج بجاج ،بجاج گروپ، ہتیش چمن لال دوشی،واری گروپ، موفت راج پی  مونوت سمیت دیگر کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ کمار منگلم برلا کی قیادت میں  آدتیہ برلا گروپ کوہورون  نے ہندوستان کا دوسرا سب سے قیمتی خاندانی کاروبار قرار دیا ہے، جس کی مالیت تقریباً  ۱۴ء۸؍لاکھ کروڑ روپے  ہے۔ اسی طرح بجاج خاندان کا کاروباری گروپ تقریباً ۷ء۷؍ لاکھ کروڑ روپے  کی مالیت کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔
  ہورون  کا ڈیٹا بنیادی طور پر ان افراد کا جائزہ لیتا ہے جو بڑے خاندانی کاروباروں کی قیادت کر رہے ہیں یا انہیں وراثت میں حاصل کر چکے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کے بانیوں کی فہرست نہیں ہے۔ اسی لیے روایتی تجارت، صنعت اور کاروبار سے جڑی پرانی یونیورسٹیوں کا کردار زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی کاروباری خاندانوں کے افراد نے اپنی ابتدائی تعلیم ہندوستان میں حاصل کی اور بعد میں  ایم بی اے   یا پوسٹ گریجویٹ تعلیم  کے لیے بیرون ملک یا معروف ہندوستان اداروں کا رخ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:گیانا ایجمین نے جمائیکا کنگز مین کو چھ وکٹ سے ہرا دیا

ممبئی میں سب سے زیادہ خاندانی کاروبار
یونیورسٹی آف ممبئی کی برتری کا تعلق شہر کی کاروباری اہمیت سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ ہورون  کے مطابق فہرست میں شامل ۳۰۰؍ خاندانی کاروباروں میں سے ۹۵؍ کا ہیڈکوارٹر ممبئی  میں ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ تعداد چار زیادہ ہے۔ ممبئی میں ٹاپ ۱۰۰؍ پہلی نسل کے کاروباروں میں سے بھی ۲۴؍کاروباروں  کا مرکز موجود ہے۔ یعنی یونیورسٹی آف ممبئی کی برتری ایسے شہر میں قائم ہے جو کئی دہائیوں سے ہندوستان کے مالیاتی اور کاروباری نظام کا اہم مرکز رہا ہے۔ تاہم جب بات  اعلیٰ تعلیم یا پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز کی آتی ہے تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ اس شعبے میں ہارورڈ یونیورسٹی  سب سے آگے ہے۔  ہورون کی فہرست میں شامل خاندانی کاروباری لیڈروں میں ہارورڈ کے۱۴؍ سابق طلبہ  ہیں۔ان میں  نیرج بجاج  اور  آنند مہندرا  جیسے نام شامل ہیں۔
رپورٹ سے ایک دلچسپ رجحان سامنے آتا ہے۔ ہندوستان کے کئی بڑے کاروباری خاندانوں کے افراد پہلے ہندوستان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک یونیورسٹی یا معروف ہندوستان بزنس اسکول جاتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار میں شامل ہو کر اہم ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ہورون   کے مطابق ان ۳۰۰؍ بڑے خاندانی کاروباروں میں سے  ۲۰۸؍ اب دوسری نسل کے ہاتھوں میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK