ہندوستان کے سروس سیکٹر میں مارچ کے مہینے میں سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی آرڈرز رہے۔ اگرچہ گھریلو نئے کاروبار کی ترقی میں کچھ سستی آئی ہے، لیکن کاروباری اعتماد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 3:59 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے سروس سیکٹر میں مارچ کے مہینے میں سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی آرڈرز رہے۔ اگرچہ گھریلو نئے کاروبار کی ترقی میں کچھ سستی آئی ہے، لیکن کاروباری اعتماد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ہندوستان کے سروس سیکٹر میں مارچ کے مہینے میں سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی آرڈرز رہے۔ اگرچہ گھریلو نئے کاروبار کی ترقی میں کچھ سستی آئی ہے، لیکن کاروباری اعتماد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ معلومات پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں دی گئی۔
ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے مرتب کردہ ایچ ایس بی سی انڈیا سروسیز پی ایم آئی رپورٹ کے مطابق، مارچ میں ہندوستان کا سروسیز پی ایم آئی۵ء۵۷؍ رہا، جو طویل مدتی اوسط ۴ء۵۴؍ سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنیوں نے ۲۰۲۵ء کے وسط کے بعد سے سب سے تیز رفتار سے روزگار میں اضافہ کیا اور تقریباً ۱۲؍ سال میں پیداوار کے لیے سب سے مضبوط نقطۂ نظر پیش کیا۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل: آر سی بی کی شاندار جیت، سی ایس کے کو مسلسل تیسری شکست
رپورٹ کے مطابق ’’پینلسٹس کے مطابق، نئے کاروبار میں اضافہ ترقی کو تقویت دے رہا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث طلب، مارکیٹ کے حالات اور سیاحت پر پڑنے والے منفی اثرات کی وجہ سے پیداوار محدود رہی۔‘‘ حقیقت میں، نئے کام کے لیے بھرتیوں میں اضافہ ہوا، لیکن گزشتہ مالی سہ ماہی کے اختتام پر یہ رفتار جنوری۲۰۲۵ء کے بعد سب سے سست رہی۔
یہ بھی پڑھئے:انٹرنیٹ پررنویر سنگھ کے ذریعہ شریا گھوشال کی نقل کا ویڈیو وائرل
سروس معیشت کے چار بڑے شعبوں میں سے تین میں فروخت کی رفتار کم رہی، جن میں فنانس اور انشورنس، رئیل اسٹیٹ اور پیشہ ورانہ خدمات، اور ٹرانسپورٹ، انفارمیشن و کمیونیکیشن شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مارچ میں ہندوستان کی سروس معیشت میں پیداوار کی شرح گزشتہ ۱۴؍ مہینوں میں سب سے سست رہی، جو نئے کاروباری آرڈرز میں سستی کو ظاہر کرتی ہے، حالانکہ بین الاقوامی آرڈرز میں تقریباً ریکارڈ سطح تک اضافہ دیکھا گیا۔ اس دوران، جون ۲۰۲۲ ءکے بعد سے ان پٹ لاگت میں سب سے تیز اضافے کے باعث فروختی قیمتوں کی مہنگائی سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق، مجموعی نئے آرڈرز کی رفتار میں کمی کے ساتھ ساتھ پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ مارچ میں ہندوستان سروسیز فراہم کرنے کی قیمتوں میں سات ماہ میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جو طویل مدتی اوسط سے بھی زیادہ تھا۔