سیوان میں پولیس کی جانبداری اور ۸؍ سالہ بچے کی گرفتاری پر برہمی

Updated: September 12, 2022, 10:39 AM IST | Abdul Salam Siwani | Siwan

مہاویری اکھاڑاکے جلوس میں فرقہ وارانہ شرانگیزی اور تشدد کے بعد مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی، مسجد کے تمام مصلیان کی گرفتاری اور پتھراؤ کے الزام میں۸؍ سالہ بچے کو بھی حراست میں لینا پولیس کی جانبداری کی علامت بن گیا

Miscreants can be seen in Barharia. .Picture:INN
بڑہڑیا میں شرپسند عناصر کو دیکھا جاسکتاہے۔۔ تصویر:آئی این این

 سیوان کےبڑہڑیا تھانہ حلقہ میں  جمعرات کو مہاویری اکھاڑاکے جلوس  میں فرقہ وارانہ شرانگیزی  اور تشدد    کے بعد مسلمانوں  کی ہی گرفتاری اور  پتھراؤ کے الزام میں ایک  ۸؍ سالہ بچے کی گرفتاری   کی بنا پر  بطور خاص پولیس پر جانبداری کا الزام عائد ہورہاہے۔ مذکورہ نوجوان جس کا نام   نابالغ ہونے کی بنا پر قانوناً ظاہر نہیں کیا جا سکتا،  کے تعلق سے پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ  ۱۳؍ سال کا ہے تاہم اس کا جو پیدائش سرٹیفکیٹ سامنے آیا ہے اس میں اس کی تاریخ  پیدائش یکم جنوری ۲۰۱۴ء درج ہے۔  اس کے علاوہ پولیس پر مہاویری اکھاڑاکے جلوس   پر پتھراؤ کے الزام میں  ایک ۷۰؍ سالہ شخص کو بھی گرفتار کرنے کا الزام ہے۔  واضح رہے کہ بڑہڑیا  کے پرانی بازار  علاقے میں ۸؍ ستمبر کو نکلنے والے جلوس  میں بھگوا پوش عناصر نے مسجد  کے سامنے پہنچ کر اشتعال انگیز نعرہ بازی کی جس کے نتیجے میں  حالات بگڑ گئے ۔ اس سلسلے میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کے  بعد اب تک ۳۵؍ نامزد ملزمین  میں  سے ۱۸؍ افراد کو گرفتار کیاگیاہے۔ نابالغ  بچے کی گرفتاری  پر اٹھ رہے ہیں اور پولیس تنقیدوں کی زد پر ہے مگر ۲۴؍ گھنٹے گزر جانے کے باوجود جس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے، تب  تک بچے کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ نمائندہ انقلاب اتوار کو تازہ صورتحال جاننے کیلئے گھر پہنچا تو دیکھا کہ تالا لگا ہوا ہے ،پڑوسیوں نے بتایا کہ بچے کے والد  اور گھر کے دیگر افراد اس کی رہائی  کے لئے کورٹ گئے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں بڑہر یاتھانہ سے رابطہ کیاگیاتو   افسر کے موجود نہ ہونے کا حوالہ دیکر گفتگو  سے گریز کیاگیا۔حیرت انگیز طور پر  ۸؍ ستمبر کی شام مہاویری اکھاڑا کے  جلوس کے دوران  مسجد کے قریب شرانگیزی  ،  توڑ پھوڑ  اور پتھراؤ کے الزام میں پولیس نے مسجد میں نماز پڑھنے گئےسبھی۷ ؍افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ۸؍ سالہ بچہ اپنےداداکےساتھ نماز پڑھنےگیا  ہواتھا، پولیس اسےبھی گرفتار کر کے لے گئی ۔خبر لکھے جانے تک انتظامیہ  نے ۳۵؍ افراد کو نامزد کیا ہے جبکہ ۱۰۰؍ نامعلوم افراد  کے خلاف بھی معاملہ درج کیا گیا ہے ۔
 اس بیچ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس  جتندر سنگھ گنگوار نےاتوار کو نامہ نگاروں سے خطاب کیا اور تصدیق کی کہ بڑہریامیں ۸؍ستمبرکےفرقہ وارانہ تشدد کے کیس میں گرفتار شدگان کی تعداد ۲۰؍ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ  علاقے میں فی الحال  حالات پرامن ہیں۔ انہوں  نے کہاکہ کچھ چینلوں اور اخباروں نے خبر چلائی کہ پولیس نے اس معاملے میں ۸؍سال کے بچے کو گرفتار کیا ہے جبکہ اس کی عمر ۱۳؍سال سے زیادہ ہےجس کا اعتراف اس نے خود کیاہے۔انہوں نے بتایا کہ  بچے کو جوینائل جسٹس کے پاس بھیجاگیا ،وہاں بھی اس نے اپنی عمر ۱۳؍سال بتائی ۔بچے کو جیل نہیں بھیجا گیا  بلکہ ریمانڈہوم  میں  رکھا گیا ہے۔  سی پی آئی (ایم ایل ) کے ایک وفد نےمتاثرہ علاقے کا دورہ  کے بعد الزام لگایا کہ  ویڈیو فوٹیج دیکھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ پولیس کی تعیناتی ناقص تھی، جو پولیس اہلکار موجود تھے وہ خاموش تماشائی تھے۔ وفد نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ   پابندی کے باوجود ڈی جے  بجتا رہا اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ شر پسندوں کوکھلی چھوٹ  ملی جو حالات کے بگڑنے کا سبب بنا۔

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK