Updated: January 02, 2026, 11:31 PM IST
| Bhopal
ملک کے سب سے صاف شہر کا ایوارڈ جیتنے والے اندورمیں آلودہ پانی سے اموات پر عدالت برس پڑی ، صاف پانی مہیا کرانے کا حکم ،راہل گاندھی نے کہا کہ وہاں پانی کی جگہ زہر پلایا جارہا ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ کسی بھی غریب کی موت پر وزیر اعظم مودی ایک لفظ نہیںبولتے ۔خود اوما بھارتی نے اپنی پارٹی کو نشا نہ بنایا
جب اندور کے علاقہ بھاگیرتھ پورہ کے ایک مکان سے جانچ کے لئے پانی کا نمونہ لیا گیا ۔(پی ٹی آئی )
کئی برسوں سے ملک کا سب سے صاف ستھرا شہر ہونے کا ایوارڈ جیتنے والے مالوہ خطہ کے شہر اندور میں آلودہ پانی سے ہونے والی اموات کے معاملے میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے اندور میونسپل کارپوریشن کو فوری طور پر متاثرہ علاقے میں صاف پانی کے ٹینکر بھیجنے اور صاف پانی کی باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ایم پی حکومت نے جمعہ کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تقریباً ۱۵؍صفحات کی رپورٹ میں سرکاری طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے صرف ۴؍ افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ قریب ۲۰۰؍ افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ان میں سے ۳۵؍مریض انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہیں۔ یہ معاملہ عوامی مفاد کی عرضی سے جڑا ہے، جسے اندور ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ رتیش انانی نے داخل کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت جسٹس بنسل اور جسٹس وانی پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو ہوئی۔سماعت کے دوران سرکار نے عدالت کو بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے طبی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی متبادل فراہمی جاری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے اگلی سماعت ۶؍ جنوری کو مقرر کردی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش میں ڈبل انجن والی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پانی نہیں زہر تقسیم پلایا جارہا تھا ۔ انہوں نے ریاستی وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے قابل اعتراض تبصرہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ کوئی ’فوکٹ‘ کا سوال نہیں، بلکہ جوابدہی کا معاملہ ہے اور موہن یادو حکومت کو جوابدہی طے کرنی ہو گی ۔ واضح رہے کہ آلودہ پانی کی وجہ سے اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں تقریباً ۱۵؍ افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار صرف ۴؍ اموات کی تصدیق کررہے ہیں۔ یہاں سیکڑوں لوگ بیمار ہو چکے ہیں۔ بھاگیرتھ پورہ علاقے میں تقریباً ۱۵؍ ہزار لوگ آبادہیں۔ یہاں کے لوگوں کو۲۶؍ دسمبر سے بدبودار، کڑوا اور گندہ پانی آنے کا احساس ہوا۔ جسے پینے کے بعد قے، اسہال اور بخار کی شکایتیں شروع ہوگئیں۔ تحقیقات میں پانی کی مین پائپ لائن میں لیک ہونے کا انکشاف ہوا، جہاں اس کے اوپر ایک بیت الخلاء کا سیوریج اس پائپ لائن کے ساتھ مل گیا۔ تھانے کے قریب بیت الخلاء میں سیفٹی ٹینک نہیں تھا، جس کی وجہ سے گندگی سیدھے پانی کے پائپ میں داخل ہوگئی اور گھروں تک یہ آلودہ پانی پہنچ گیا۔
ملک کے سب سے صاف شہر کا ایوارڈ جیتنے والے اندور میں اتنی بڑی لاپروائی اورپھر قیمتی جانوں کے اتلاف نے ریاستی حکومت کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کردیا ہے۔ اپوزیشن تو اپوزیشن اب تو بی جے پی لیڈر بھی ریاستی حکومت پر حملہ کررہے ہیں۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، اور راہل گاندھی کے بعد ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر اوما بھارتی نے موہن یادو حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ایم پی حکومت کو اس عظیم گناہ کی تلافی کرنی ہوگی ، متاثرین سے معافی مانگنی ہوگی، ساتھ ہی مجرموں کو عبرت ناک سزا دینی ہوگی کیوں کہ انسانی جان کی قیمت محض ۲؍ لاکھ روپے کا معمولی معاوضہ نہیں ہے۔ دریں اثناءکانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ جل جیون مشن اور سوچھ بھارت کا ڈھول پیٹنے والے مودی جی ہمیشہ کی طرح اندور میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی اموات پر خاموش ہیں۔