• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندور : گداگر مخالف مہم میں پکڑاگیا بھکاری کروڑ پتی نکلا

Updated: January 19, 2026, 2:15 PM IST | Inquilab News Network | Indore

معذور مانگی لال ۳؍ مکانات کا مالک ہے، ۳؍ آٹو رکشے بھی کرایہ پر چلتے ہیں اور اس کے پاس اپنی ذاتی ڈِیزائر کار بھی ہے۔اس نے بتایا کہ روزانہ ۵۰۰؍ سے ہزار روپے خیرات میں جمع ہوجاتے ہیں۔

Beggar Mangilal. Picture: INN
گداگر مانگی لال ۔ تصویر: آئی این این
یہاں گداگری کے خاتمے کے خلاف چھیڑی گئی مہم کے تحت مقامی انتظامیہ کے ہاتھ ایک ایسا معذور بھکاری آیا ہے جو ’کروڑپتی‘ ہے۔ اتنا ہی نہیں سڑکوں پر بھیک مانگنے والا مانگی لال نامی یہ معذور گداگر لوگوں کو سود پر قرض بھی دیتا ہے۔گداگرمخالف مہم کےتحت محکمۂ خواتین و اطفال کی ٹیم نے سنیچر کے روز اس ’رئیس‘ بھکاری کو ریسکیو کیا ہے۔ جس کے حقائق جان کر ہر کوئی حیران ہے۔ 
مانگی لال تاجروں کو سود پر رقم دیتا ہے
لکڑی کی پھسلنے والی گاڑی، پیٹھ پر بیگ اور دونوں ہاتھ میں جوتے پہنے اندور کے صرافہ بازار کی گلیوں میں گھوم گھوم کر بھیک مانگنے والا مانگی لال لوگوں کی ہمدردی کا فائدہ اٹھا کر روزانہ سینکڑوں روپے کماتا ہے۔ مانگی لال کے مطابق، اسے روزانہ خیرات میں لوگوں سے ۵۰۰؍ سے ایک ہزار روپے مل جاتے  ہیں۔ تاہم اندازہ ہے کہ اس کی اصل یومیہ آمدنی اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ بھیک سے حاصل ہونیوالی رقم اتنی ہوچکی ہے کہ وہ صرافہ علاقے میں ہی کچھ تاجروں کو سود پر بھی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اندور کو بھکاریوں سے پاک بنانے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے لئے ریسکیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہی ٹیموں نے سنیچر کے روز صرافہ علاقے میں بھیک مانگنے والے مانگی لال کو ریسکیو کیا۔ اس ٹیم کے نوڈل افسر دنیش مشرا نے بتایا کہ صرافہ علاقے سے بھیک مانگنے کی مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعدہم نے سرچ مہم چلائی اور اس دوران ہم نے مانگی لال کو بھی ریسکیو کیا ہے۔ 
مانگی لال ۳؍مکان ،۳؍آٹورکشا اور ایک کارکا مالک بھی ہے
پوچھ گچھ کے دوران مانگی لال نے بتایا کہ اس کے پاس شہر کے مختلف علاقوں میں ۳؍ پختہ مکانات ہیں۔ ان میں بھگت سنگھ نگر میں 16×45 فٹ کا ۳؍منزلہ مکان، شیو نگر میں۶۰۰؍ مربع فٹ کا دوسرا پختہ مکان اور الوَاس میں 10×20 فٹ کا ایک بی ایچ کے مکان شامل ہے۔ الوَاس کا یہ مکان حکومت کی جانب سے ریڈ کراس کی مدد سے معذوری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔اتنا نہیں مانگی لال کے پاس ۳؍ آٹو رکشے بھی ہیں، جنہیں وہ کرائے پر چلاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ایک ڈیزائر کار بھی ہے، جسے چلانے کیلئے اس نے ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔ مانگی لال الوَاس میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ اس کے دو بھائی الگ رہائش پزیر ہیں۔ مانگی لال نے تفتیش میں بتایا کہ اس نے صرافہ علاقے میں کئی لوگوں کو سود پر پیسے دے رکھے ہیں۔ انہی رقوم کا سود وصول کرنے کے لئے وہ سرافہ آتا ہے۔ وہ ایک دن اور ایک ہفتے کے حساب سے سود پر رقم دیتا ہے اور روزانہ سود لینے کے لئے  صرافہ پہنچتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے زبردستی پیسے نہیں مانگتا، لوگ خود ہی رقم دے دیتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جولائی ۲۰۲۵ء میں اندور کی مقامی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ شہر بھکاریوں سے پاک ہوچکا ہے۔ تاہم اب بھی مختلف علاقوں میں پیشہ ور گداگر گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK