Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو پر بریک لگ گیا

Updated: May 03, 2026, 7:07 PM IST | Karachi

آنے والے برسوں میں پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح ۹؍ سے ۱۰؍ فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ اگر خام تیل کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل برقرار رہتی ہے تو مہنگائی مزید بڑھے گی، جس کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو شرح سود میں مزید اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پڑوسی ملک میں مہنگائی تمام ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔

Pakistani.Photo:INN
پاکستان۔ تصویر:آئی این این

 مڈل ایسٹ میں جاری جنگ اور کشیدگی نے پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدات میں رکاوٹوں نے اقتصادی صورتحال کو نہایت نازک بنا دیا ہے۔ڈان کی رپورٹ اور ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تازہ تجزیے کے مطابق، اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو پاکستان میں مہنگائی شدید بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
 پاکستان میں شدید مہنگائی کا نیا دور
رپورٹ کے مطابق اگلے سال مہنگائی کی اوسط شرح ۹؍ سے ۱۰؍ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اگر تیل کی قیمت ۱۰۰؍ڈالر فی بیرل برقرار رہتی ہے تو مہنگائی مزید بڑھے گی۔ تیل کی قیمت میں ہر ۱۰؍ ڈالر کے اضافے سے مہنگائی میں تقریباً ۵۰؍ بیسس پوائنٹس اضافہ ہوتا ہے۔ اگر تیل ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے تو سالانہ مہنگائی ۱۱؍ فیصد تک جا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کو شرح سود مزید بڑھانی پڑے گی۔ اس طرح مہنگائی نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔
جنگ کے باعث نہ صرف اخراجات بڑھ رہے ہیں بلکہ آمدنی کے ذرائع بھی کم ہو رہے ہیں۔ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر میں ۱۰؍ فیصد کمی کا خدشہ ہے، جس سے مجموعی ترسیلات میں۵ء۳؍ فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں بھی تقریباً ۴؍ فیصد کمی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
جی ڈی پی کی شرح نمو میں بڑی کمی
اقتصادی دباؤ کے باعث پاکستان کی ترقی کی رفتار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مالی ۲۰۲۷ء کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ ۴؍ فیصد سے کم کرکے ۵ء۲؍سے ۰ء۳؍ فیصد کر دیا ہے۔ صنعتی شعبے کی ترقی، جو پہلے ۴؍ فیصد متوقع تھی، اب کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پتی پتنی اور وہ دو ٹریلر: آیوشمان، سارہ، وامیکا اور رکول کی الجھی ہوئی محبت کی کہانی


پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال ۲۰۲۷ء تک ۸؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ سخت درآمدی کنٹرول کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔ مالی سال ۲۰۲۶ء میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے ۰ء۴؍ سے ۵ء۴؍ فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے، جو آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان شکست سے دوچار، فرانس اور چین کے درمیان فائنل مقابلہ ہوگا


 اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی پر دُہرا دباؤ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج اپنی زیادہ توانائی درآمدی انحصار کے باعث دنیا کی بدترین کارکردگی پیش کرنے والی منڈیوں میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا۸۵؍ فیصد درآمد کرتا ہے، جس پر مالی سال ۲۰۲۶ء میں تقریباً۱۵؍ ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ مالی سال۲۰۲۷ء تک پاکستانی روپیہ کمزور ہو کر فی ڈالر ۲۹۸؍ تک پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK