اُردو سے پھر ناانصافی ،انجینئرنگ کے ذریعۂ تعلیم میںشامل نہیں

Updated: May 28, 2021, 8:38 AM IST | saadat khan | Mumbai

اے آئی سی ٹی ای نے انگریزی کےعلاوہ ۸؍علاقائی زبانوںمیں انجینئرنگ کی پڑھائی کی اجازت دی لیکن ان میں اُردوشامل نہیں ،اقلیتی طبقےمیں ناراضگی

Amin Patel.Picture:Inquilab
امین پٹیل تصویر انقلاب

 :اردو زبان سے ایک مرتبہ پھر سوتیلا سلوک اور ناانصافی کامعاملہ سامنے آیاہے۔ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن ( اے آئی سی ٹی ای) نے کالجوں کو نئے تعلیمی سال جون ۲۱۔۲۰۲۰ء سے ۸؍علاقائی زبانوںمیں انجینئرنگ ( ڈگری) کی تعلیم دینے کی اجازت  دی ہے۔ مگر افسوس کی بات ہےکہ ان میں اُردو زبان شامل نہیں ہے ۔ اس سے قبل ریاستی حکومت نے بھی طلبہ کی سہولت کیلئے بنائے گئے مہاکرئیر پورٹل میں اُردو زبان کو شامل نہیں کیاتھا۔انجینئرنگ کی تعلیم اب انگریزی کے علاوہ ہندی،مراٹھی، گجراتی، تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ اور بنگالی زبانوںمیں بھی دی جائے گی لیکن اُردو میڈیم کے طلبہ کیلئے یہ سہولت مہیانہیں ہوگی۔ اُردو میڈیم کے طلبہ کے ساتھ اس طرح کا تعصب کیوں برتا جارہاہے ۔ یہ سوال اقلیتی طبقےمیں اُٹھ رہاہےاوراس سے بے چینی پائی جارہی ہے ۔   
  ریاستی حکومت نے مہاکرئیر پورٹل نامی ویب سائٹ جس میں ۵۵۰؍ سے زائد کرئیر کی تفصیلی معلومات درج ہیں میں بھی اُردو زبان کو نہیں شامل کیاہے۔ جس پر سماجی ، سیاسی اور تعلیمی نمائندوںنےسخت اعتراض کیا تھا۔ اس کے باوجود ابھی تک اس پورٹل میں اردوکو شامل نہیں کیاگیاہے۔ علاقائی زبانوں میں انجینئرنگ کی تعلیم دیئے جانے کے فیصلہ کا سماجی ،سیاسی اور تعلیمی نمائندوں نے خیرمقدم کیاہے مگر اُردو زبان کو شامل نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار بھی کیاہے۔  ساتھ ہی متعدد تعلیمی، سماجی اور ملی تنظیموں نے اس فیصلہ کے خلاف آواز اُٹھانے کا فیصلہ کیاہے ۔
 اس ضمن میں ریاستی مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جےایم ابھینکر نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ بالکل غلط اور اُردوزبان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مہاراشٹر میںتو اُردو زبان دوسری پوزیشن پر ہے۔ مراٹھی کے بعد سب سے زیادہ طلبہ اُردومیڈیم کے ہیں۔ ایسے میں مذکورہ انجینئرنگ کی تعلیم  کیلئے اُردو زبان کو شامل نہ کرنا بالکل غلط ہے۔ ہم اس فیصلہ کی مخالفت کرتےہیںاور مائناریٹی کمیشن کے توسط سے اے آئی سی ٹی ای کومکتوب روانہ کرکے اُردو زبان کو بھی اس میں شامل کرنےکا مطالبہ کریں گے۔‘‘
  اساتذہ حلقہ کے رکن اسمبلی کپل پاٹل نے کہا کہ ’’ اُردوکی دکنی زبان کی پیدائش مراٹھواڑہ میں ہوئی ہے ۔ اُردو زبان کا مہاراشٹر سے قریبی رشتہ ہے۔ اُردوہمارے لئے کوئی پرائی زبان نہیں ہے ۔ چنانچہ اے آئی سی ٹی ای کا فیصلہ غیر مناسب ہے۔دیگر زبانوںکی طرح اُردوزبان کوبھی مذکورہ کورس کیلئے منظوری دی جانی چاہئے ۔ حالانکہ اس معاملہ میں اسمبلی میں بھی میں نے آوازا ُٹھائی تھی اورمطالبہ کیاتھاکہ اُردوزبان کو بھی دیگر ۸؍ زبانوں کےساتھ شامل کیاجاناچاہئے مگر نہ معلوم کیوں اس حکومت نے ایساکیوں نہیں کیا۔ لوگ کہتے ہیںکہ یہ حکومت اپنی ہے مگر مجھے ایسانہیں لگتاہے۔‘‘رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہاکہ ’’جب دیگر علاقائی زبانوںکو شامل کیاگیاہے تو اُردو زبان کو شامل نہ کرنےکی کوئی وجہ نہیں ہوتی ہے ۔اُردو زبان کو بھی اس میں شامل کیاجاناچاہئے ۔ میں اس تعلق سے متعلقہ ڈپارٹمنٹ اور ریاستی گورنر کو مکتوب روانہ کرکے اُردو زبان کو بھی اس کورس کیلئے شامل کرنےکی اپیل کروںگا۔‘‘ اس تعلق سے ریاستی وزیرنواب ملک سے بھی بات چیت کرنےکی کوشش کی گئی مگر ان کا موبائل فون بندہونے سے بات نہیں ہوسکی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK