Updated: February 12, 2026, 4:52 PM IST
| Los Angeles
عالمی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز نے اپنے پورے میوزک کیٹلاگ کے حقوق میوزک پبلشر پرائمری ویو کو فروخت کر دیے ہیں، جس کی مالیت امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً ۲۰۰؍ ملین ڈالر ہے۔ اس معاہدے میںا سپیئرز کے بیس سے زائد مشہور گانوں اور البموں کو عالمی مارکیٹنگ، فلم، اشتہار اور ڈجیٹل اسٹریم کے استعمال کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام فنکارانہ اور مالی طور پر ان کے کریئر میں نئے دور کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔
برٹنی اسپیئرز۔ تصویر: آئی این این
پاپ میوزک کی دنیا کی مشہور شخصیت برٹنی اسپیئرز نے اپنے پورے میوزک کیٹلاگ یعنی گانوں، البموں اور متعلقہ حقوق کو نیویارک کی میوزک پبلشر پرائمری ویو کے حوالے کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً ۲۰۰؍ ملین امریکی ڈالر میں طے پایا ہے، تاہم، کمپنی یا اسپیئرز کی جانب سے مالی تفصیلات کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ معاہدہ ۳۰؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو قانونی طور پر حتمی شکل پاچکا ہے، جس میں اسپیئرز نے اپنے مشہور کیٹلاگ میں شامل بیس سے زائد گانوں اور البمز کے حقوق پرائمری ویو کو سونپ دیے ہیں۔ اس پورے کیٹلاگ میں ان کے کئی مشہور نغمے شامل ہیں۔ ان نغموں نے ۹۰ء اور ۲۰۰۰ء کی دہائیوں میں عالمی موسیقی انڈسٹری پر گہرا اثر قائم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گھوس خور پنڈت: سپریم کورٹ نے کہا آزادیٔ اظہار کسی طبقے کی توہین کا لائسنس نہیں
پرائمری ویو ایک معروف میوزک پبلشر ہے جس نے پہلے بھی دیگر عالمی موسیقاروں جیسے پرنس، ویتنی ہوسٹن، بوب مارلے، اسٹیوی نکس اور دیگر کے کیٹلاگ خریدے ہیں۔ کمپنی کا ماڈل موسیقی کے حقوق کو خرید کر انہیں فلموں، اشتہارات، ٹی وی شو اور ڈجیٹل سروسیز میں لائسنس کے ذریعے تجارتی اور مالی فائدہ فراہم کرنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس طرح کے سودے فنکاروں کو بڑے مالی فوائد کے ساتھ ان کے کام کی قدر کو مستقبل تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ اسپیئرز کے کریئر میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور دنیا بھر میں ساتھی فنکاروں کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر نویں اسٹوڈیو البمز جاری کیے ہیں اور ان کی مجموعی عالمی البم سیلز تقریباً ۱۵۰؍ ملین سے زائد ہیں، جو انہیں تاریخ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی خواتین فنکاروں میں شامل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کمال خان کا دعویٰ: راجپال کے پاس ۵۰؍ کروڑ کی جائیداد، بیوی کو جیل کیوں نہیں؟
برٹنی اسپیئرز کی پرفارمنگ اور ریکارڈنگ کریئر کی گزشتہ دہائیاں متنازع رہی ہیں، خاص طور پر ۲۰۰۸ء سے ۲۰۲۱ء تک ان کی کنزرویٹرشپ (قانونی نگرانی) کے حوالے سے میڈیا میں گہری توجہ رہی۔ عوامی مطالبات کے بعد یہ کنزرویٹرشپ ۲۰۲۱ء میں ختم ہوئی، اورا سپیئرز نے اپنی ذاتی آزادی اور زندگی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا۔ ۲۰۲۳ء میں انہوں نے ’’دی وومن اِن می‘‘ نامی سوانح عمری شائع کی، جس میں انہوں نے اپنے زندگی کے تجربات، جدوجہد اور ذاتی آزادی کے لیے لڑائی کی تفصیلات بیان کیں۔ اس کتاب کی بنیاد پر ایک بایوگرافیکل فلم بھی پروڈکشن کے مراحل میں ہے، جس میںا سپیئرز خود شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ۲۰۱۶ء میں ’’گلوری‘‘ کے بعد اسپیئرز کوئی مکمل البم نہیں جاری کیا ہے۔ تاہم، ۲۰۲۳ء میں ان کا سنگل ’’مائنڈ یور بزنس‘‘ ریلیز ہوا تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ امریکہ میں موسیقی انڈسٹری میں واپس نہیں آنا چاہتیں، اگرچہ کچھ بین الاقوامی پرفارمنس کے امکانات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: پران نے طویل عرصے تک بطور ویلن فلموں پر راج کیا
اس معاہدے کے تحت، برٹنی اسپیئرز کا میوزک مستقبل میں فلموں، ٹی وی، اشتہارات اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا رہے گا، جس سے ان کے کام کو نئی نسلوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔