Updated: March 30, 2026, 3:03 PM IST
| New Delhi
لوک سبھا میں پیر کے روز دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن کوڈ (ترمیمی) بل ۲۰۲۵ء صوتی ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ بل پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ یہ بل بحران زدہ کمپنیوں کے حل کے عمل کو تیز کرنے کے بنیادی مقصد سے لایا گیا ہے۔
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این
لوک سبھا میں پیر کے روز دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن کوڈ (ترمیمی) بل ۲۰۲۵ء صوتی ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ بل پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ یہ بل بحران زدہ کمپنیوں کے حل کے عمل کو تیز کرنے کے بنیادی مقصد سے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے قانون بن جانے کے بعد کمپنیوں کے دیوالیہ معاملات عدالت کے باہر حل کیے جا سکیں گے۔ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل اگست ۲۰۲۵ء میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا اور اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ سلیکٹ کمیٹی نے گہرائی اور سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد ۱۱؍ ترامیم تجویز کیں اور سب کو اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس میں قرض دہندگان کو زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔
قرض دہندگان حل کنندہ کے انتخاب کے عمل میں اپنے حقوق استعمال کر سکیں گے۔ اس سے پورے عمل میں زیادہ شفافیت لائی جا سکے گی اور حل کا عمل تیز ہوگا۔ مرکزی وزیر سیتارمن نے کہا کہ اس بل میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ این سی ایل اے ٹی میں اپیل کے بعد تین ماہ کے اندر فیصلہ آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیمی بل میں بیمار کمپنیوں کے حل میں تاخیر سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس میں ملازمین کے مفادات کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ ان کی جتنی واجبات ہیں، انہیں ترجیح دی جائے گی۔ ہم ملازمین کے مفادات پر بالکل سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بل میں چھوٹے، بہت جھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباروں کا بھی مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ سیتارمن نے کہا کہ ۲۰۱۶ء میں دیوالیہ پن اور عدم ادائیگی قانون لائے جانے کے بعد جو بحران زدہ کمپنیاں حل کے عمل سے گزری ہیں، وہ بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ بیمار کمپنیوں سے بینکوں کا ڈوبا ہوا پیسہ نکالنے کی شرح میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اب یہ ۵۲؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان جانیوالے مزید ۲؍ ایل پی جی ٹینکرز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر گئے
سیتارمن نے کہا کہ بینک فریب دہی کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ۱۱۰۵؍ معاملات کی جانچ کی، جس میں۶۴۹۲۰؍ کروڑ کی جائیدادیں ضبط کر کے۱۵۰؍ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مفرور معاشی مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے اور ایسے معاملات میں مجرموں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اپارشکتی کھرانا کا نیا گانا ’’تیرے پیچھے‘‘ ریلیز، مہیما مکوانا کے ساتھ نظرآئے
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل کے حل کا بھی اس میں بندوبست کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار میں قرض دہندگان کے معاملے میں کافی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اب نہ قرض دینے والے اور نہ ہی قرض لینے والے کا کسی بھی طرح غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔