Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ پیپر لیک معاملہ میں راہل کا براہ راست مودی پر حملہ، خاموشی پر سوال اُٹھایا

Updated: May 18, 2026, 11:24 AM IST | Ahmedullah Siddiqui | New Delhi

۲۰۲۴ء کے پرچہ لیک کا بھی حوالہ دیا، سوال کیا کہ ’’بار بار پیپر لیک کیوں  ہورہے ہیں، آپ چپ کیوں  ہیں، وزیر تعلیم کا استعفیٰ کیوں  نہیں  لیتے؟‘‘

Rahul Gandhi. Photo: INN.
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو پھر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نیٹ پیپر لیک معاملہ میں  براہ راست وزیراعظم مودی سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی خاموشی پر بھی سوال کئے۔ ایک طرف جہاں یوتھ کانگریس اور پارٹی کی طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی ‘ پیپر لیک کے خلاف سڑکوں  پر احتجاج کررہی ہے وہیں   دوسری طرف لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر وزیراعظم اوران کے وزیروں  کی جوابدہی طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 
انہوں نے اتوار کو ایکس پوسٹ کیا کہ ’’نیٹ۲۰۲۴ء: پیپر لیک ہو۔ امتحان منسوخ نہیں ہوا۔ وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ سی بی آئی نے تفتیش شروع کی۔ ایک کمیٹی بنائی گئی۔ نیٹ۲۰۲۶ء : پیپرلیک ہوا۔ امتحان منسوخ کر دیا گیا۔ وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ سی بی آئی دوبارہ تحقیقات کر رہی ہے۔ ایک اور کمیٹی بنائی جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے بار بار پیپر لیک پر وزیراعظم مودی کو براہ راست مخاطب کیا کہ ’’مودی جی، ملک آپ سے کچھ سوال پوچھ رہا ہے، جواب دیں ! بار بارپیپر کیوں لیک ہو رہے ہیں ؟ آپ بار بار اِس ’پریکشا پہ چرچہ‘پر خاموش کیوں ہیں ؟ بار بار ناکام ہونے والے وزیر تعلیم کو کیوں برخاست نہیں کر رہے ہیں ؟‘‘
راہل گاندھی نے گزشتہ روز بھی مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’دھوکہ دہی کا ایک طے شدہ فارمولہ ہے۔ سب سے پہلے، ایک طویل خاموشی، پھر مجرموں کیلئے تحفظ اورپھر سوال پوچھنے والوں پر حملے۔ ‘‘ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ نیٹ کا پرچہ لیک ہوگیا لیکن ایک بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK