بابری مسجد کیس کے فیصلے پر دستاویزی اہمیت کی حامل تحقیقی رپورٹ کااجراء، ملک کے ممتاز قانون دانوں نےا سےسیکولرزم، عدالتی انصاف اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 11:22 AM IST | New Delhi
بابری مسجد کیس کے فیصلے پر دستاویزی اہمیت کی حامل تحقیقی رپورٹ کااجراء، ملک کے ممتاز قانون دانوں نےا سےسیکولرزم، عدالتی انصاف اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔
نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ’’ سیکولرزم، عدالتی انصاف اور مذہبی ہم آہنگی‘‘پر منعقدہ ایک اہم قانونی اور آئینی مذاکرہ میں بابری مسجد فیصلے اور تاریخی عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون ’’پلیس آف ورشپ ایکٹ ۹۱ء‘‘ پر ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی گئی جسے مولانا محمود مدنی نے’’ آنے والی نسلوں کیلئے ایک اہم تاریخی دستاویز‘‘ قرار دیا۔ رپورٹ میں سیکولرزم کے اصولوں اور مذہبی مساوات کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے پلیس آف ورشپ ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کی سفارش کی گئی ہے۔
اس پروگرام کا اہتمام جمعیۃ علمائے ہند کے ذیلی ادارے’’ جسٹس اینڈ امپاورمنٹ آف مائنارٹیز‘‘اور ’’ساؤتھ ایشین مائنارٹیز لائرس اسوسی ایشن‘‘( ایس اے ایم ایل اے، ساملا) نے مشترکہ طورپر کیاتھا۔ جمعیۃ علمائے ہند کے صدرمولانا محمود مدنی کی صدارت میں منعقدہ اس پروگرام میں ممتاز سینئر وکلاء، سابق جج، قانونی ماہرین اور دانشور شریک تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ۱۹۹۱ء کا ’’پلیس آف ورشپ ایکٹ‘‘ جوتاریخی مذہبی تنازعات کو دوبارہ کھولنے سے روکتا ہے، ہندوستان کے سیکولر ڈھانچے، آئینی استحکام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کیلئے نہایت اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں ۱۹۹۴ء کے اسماعیل فاروقی کیس کےفیصلے اور۲۰۱۹ء کے ایودھیا فیصلے کا بھی جائزہ لیا گیا اور یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی اس تشریح نے کہ’’مساجد اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہیں ‘‘ بعد کے عدالتی فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ مولانا محمود مدنی نے تحقیقی رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ بابری مسجدکیس کے فیصلے پر ایک متبادل آئینی اور علمی نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے مذکورہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کیس کے فیصلے میں کہیں بھی فیصلہ کن طریقہ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ بابری مسجد کی تعمیر کیلئے کوئی مندر منہدم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف نمبر ۷۸۸؍ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ عدالت نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس دعوے کے حق میں کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے۔
مولانا مدنی نے گیان واپی مسجد، متھرا عیدگاہ، کمال مولیٰ مسجد اور دیگر تنازعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ایک فرقہ یا برادری کا نہیں ہےبلکہ ہندوستان کی آئینی شناخت اور عدالتی ساکھ کاہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایسی طاقتوں کی حمایت سے گریز کرے جو اقلیتی حقوق کو کمزور کرتی ہیں۔
سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے بھی زور دیکر کہا کہ بابری مسجد کا فیصلہ اور عبادت گاہوں سے متعلق قانون (پلیس آف ورشپ ایکٹ)کسی ایک مذہبی تنازع سے متعلق نہیں ہیں بلکہ یہ ہندوستان کے آئینی مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ کی وکیل نے زور دیا کہ کسی بھی سیکولر جمہوریہ میں ضروری ہے کہ جج مقدموں کے فیصلےمذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے مطابق کریں۔
چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور آئین کے ماہرین میں شمار ہونے والے فیضان مصطفیٰ نے مذہبی مقامات اور عبادتگاہوں کے تاریخی ریکارڈ اور قانونی دستاویزات کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سینئر وکیل سلمان خورشید نے بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا ایک بڑا حصہ مسلم فریق کے قانونی دعوؤں کی توثیق کرتا ہے۔ انہوں نے بھی یہ بات دہرائی کہ محکمہ آثارِ قدیمہ کی رپورٹیں فیصلہ کن طریقہ سے یہ ثابت نہیں کرتیں کہ بابری مسجد کی تعمیر کیلئے کوئی مندر گرایا گیا تھا۔ ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے متنبہ کیاکہ عبادت گاہوں کے قانون (پلیس آف ورشپ ایکٹ ۹۱ء) کو کمزور کرنے یا محکمہ آثار قدیمہ سے متعلق قوانین کے ذریعے نئے تنازعات پیدا کرنے کی کوششیں ہندوستان کے سیکولر اور آئینی ڈھانچے کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اقبال احمد انصاری نے پروگرام میں جاری کی گئی رپورٹ کو بابری مسجد مسئلے اور اس سے متعلق عدالتی و سماجی حقائق کا ایک مفصل اور باریک بینی سے کیاگیا تجزیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بابری مقدمے میں جو سنایا گیاوہ ’’مکمل اورمدلل عدالتی فیصلہ‘‘ نہیں تھا بلکہ محض ایک ’’حکم‘‘تھا۔