کہا کہ’’ انتخابات کرانے والے ان لوگوں پر منحصر نہیں ہوسکتے جو الیکشن لڑتے ہیں‘‘، مرکز کو بھی کھری کھری سنائی،کہا:ریاستوں کوماتحت نہیں سمجھنا چاہئے
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 11:40 PM IST | Hamidullah Siddiqui | New Delhi
کہا کہ’’ انتخابات کرانے والے ان لوگوں پر منحصر نہیں ہوسکتے جو الیکشن لڑتے ہیں‘‘، مرکز کو بھی کھری کھری سنائی،کہا:ریاستوں کوماتحت نہیں سمجھنا چاہئے
ملک میں اپوزیشن پارٹیوںکے ذریعہ الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات کے درمیان سپریم کورٹ کی جسٹس بی وی ناگرتنا نےکہا کہ اگر آئینی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ہے تو الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنا چاہئے۔ہندوستان کی جمہوریت میں الیکشن کمیشن کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ انتخابات محض وقفہ وقفہ سے ہونے والے واقعات نہیں بلکہ ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے سیاسی اتھاریٹی کی تشکیل ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن،سی اے جی اور فائنانس کمیشن کو ایک مشترکہ منطق کے تحت ڈیزائن کیا گیا تاکہ اس کے ماہرین اپنے شعبوں کی نگرانی کرسکیں جہاں عام سیاسی عمل غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لئے ناکافی ہو سکتا ہے۔پٹنہ کی چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی میںاولین ڈاکٹر راجندر پرساد میموریل لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ یہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں اور سیاسی عمل سے متاثر نہ ہوں۔
جسٹس ناگرتنا نے کہاکہ ہماری آئینی جمہوریت نے بروقت انتخابات کے انعقاد کی وجہ سے حکومت میں ہموار تبدیلیوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے ۔ اس عمل پر کنٹرول دراصل سیاسی مقابلے کے حالات پر کنٹرول ہے۔جسٹس ناگرتنا نے ٹی این سیشن بمقابلہ یونین آف انڈیا مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میںالیکشن کمیشن کو ایک اعلیٰ اہمیت کی آئینی اتھاریٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا، جسے انتخابات کی سالمیت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔اسی وجہ سے اگر انتخابات کرانے والے انتخابات لڑنے والوں پر منحصر ہیں، تو اس عمل کی غیر جانبداری کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا