ہائی کورٹ نے ۳؍ روز کی عبوری ضمانت منظور کی ۔جج نے کچھ شرائط بھی لگائیں، جس میں خالد کو دہلی این سی آر علاقے میں رہنےاور صرف ایک موبائل نمبر استعمال کرنے کو کہا گیاہے
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 3:33 PM IST | New delhi
ہائی کورٹ نے ۳؍ روز کی عبوری ضمانت منظور کی ۔جج نے کچھ شرائط بھی لگائیں، جس میں خالد کو دہلی این سی آر علاقے میں رہنےاور صرف ایک موبائل نمبر استعمال کرنے کو کہا گیاہے
عمر خالد کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔عمر کو اپنی والدہ کی سرجری کے لیے تین دن کی عبوری ضمانت دی گئی ہے، جس سے انہیں جیل سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
عمر خالد پر دہلی فسادات کیس میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور مدھو جین کی بنچ نے حکم دیا ہے کہ عمر خالد کو یکم جون ۲۰۲۶ء سے ۳؍ جون ۲۰۲۶ء تک مشروط بنیاد پر جیل سے رہا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے : غیر ملکی دورہ سے لوٹنے کے بعد وزیر اعظم مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ
جج نے مزید کچھ شرائط بھی لگائیں، جس میں خالد کو دہلی این سی آر علاقے میں رہنے، ان کے بتائے ہوئے پتے پر رہنے، اسپتال کے علاوہ کہیں نہ جانے اور صرف ایک موبائل نمبر استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔ قبل ازیں جمعرات کو، خالد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جب ٹرائل کورٹ نے ان کو اپنے چچا کی موت کی ۴۰؍ روزہ رسومات (چہلم) میں شرکت کرنے اور اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے ۱۵؍ دن کے لیے عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے مشورہ دیاہے کہ عمر خالد کے متوفی چچا کے جنازے میں شرکت کرنا اتنا اہم نہیں تھا اور خاندان کے دیگر افراد ان کی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے دستیاب تھے۔خالد پر فروری ۲۰۲۰ء کے فسادات کے اہم سازش کاروں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور ۷۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) ۲۰۱۹ء اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : فضیلہ شیخ کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا: پوسٹ مارٹم رپورٹ
کارکن شرجیل امام، خالد سیفی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت دیگر کے خلاف بھی دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی طرف سے تفتیش کی جارہی ایک بڑے سازشی کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ۲؍ستمبر ۲۰۲۵ء کو جسٹس نوین چاؤلہ اور شیلندر کور کی بنچ نے امام، خالد، میران حیدر اور کیس کے دیگر ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی۔ سپریم کورٹ نے جنوری میں اس حکم کو برقرار رکھا تھا۔
۔۔