ثالثوں کی دونوں ملکوںکے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں ، مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت ،خامنہ ای کی تدفین کےبعد دوبارہ مذاکرات ہوںگے:قطر۔
قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری -تصویری۔آئی این این
ایران کو دوحہ مذاکرات میں پہلی بڑی کامیابی ملی ہے، امریکہ اور ایران نے ۳؍ ارب ڈالر کے فنڈز کے اجرا اور براہِ راست رابطہ ہاٹ لائن پر اتفاق کر لیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں منجمد اثاثوں میں سے ایران کو ۳؍ ارب ڈالرز دینے پر عبوری اتفاق کیا گیا ہے ۔ نائب ایرانی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ دوحہ میں پاکستانی اور قطری ثالثوں سے گفتگو میں مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں پر بات کی گئی اور مفاہمتی چینل قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ قطری حکام کے ساتھ ملاقات میں ایران کے منجمد فنڈز پر بھی بات ہوئی۔۶؍ رب ڈالرز کے منجمد فنڈز کا ایک حصہ ایران کے لیے اشیا ضروریہ خریدنے میں استعمال ہوگا۔دریںاثناء قطر نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے تاہم دونوں ممالک نے آئندہ دور کی بات چیت ایران کے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسوم کے بعد دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق بدھ کو دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت ہوئی۔
امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی قطری امیر سے ملاقات ہوئی جس میں امریکہ ایران مذاکرات میں پیش رفت سمیت لبنان جنگ بندی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بات کی گئی۔ واضح ہوکہ دوحہ میں مذاکرات شٹل ڈپلومیسی کے تحت کئے جا رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے اور ایران کی جانب سے بعض عبوری شرائط پوری ہونے تک براہِ راست مذاکرات سے انکار کے باعث دونوں وفود الگ الگ مقامات پر موجود ہیں ۔ ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں ، جس میں مرکزی بینک اور وزارت زراعت کے حکام بھی شامل ہیں،جب کہ امریکی تکنیکی وفد نے قطری ثالثوں سے الگ ملاقاتیں کیں۔ اگرچہ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور وہائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اعلیٰ سطحی مشاورت کیلئے دوحہ پہنچے اور قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقاتیں کیں، تاہم وہ تکنیکی سطح کے ان مذاکرات میں براہِ راست شریک نہیں ہوئے۔
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے واضح کر دیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی قومی سلامتی سے متعلق بنیادی معاملات ہیں، جن پر امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں قومی سلامتی کی ریڈ لائنز ہیں اور ان پر کسی بھی مرحلے پر بات چیت یا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف اپنے موجودہ دفاعی نظام کو برقرار رکھے گا بلکہ مستقبل میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کا عمل بھی جاری رکھے گا۔مجید ابن الرضا کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی طاقت ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت ہے، اس لیے اس معاملے کو کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف تکنیکی اور سفارتی معاملات پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم ایرانی حکام مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات کا دائرہ کار صرف طے شدہ موضوعات تک محدود رہے گا اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن دفاعی اور عسکری معاملات بدستور تہران کے لیے ناقابلِ مذاکرات حیثیت رکھتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام گزشتہ چند برسوں سے مغربی ممالک اور خطے کے کئی ممالک کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، جبکہ تہران انہیں اپنی دفاعی حکمت عملی کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا تازہ بیان آئندہ امریکا۔ایران مذاکرات کے لیے بھی اہم اشارہ ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر اپنا مؤقف تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔