وینزویلا کے وزیر خارجہ جِل پنٹو نے امریکی حملے کو سامراجی جارحیت بتایا اور دنیا سے اس کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔
کراکس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے امریکہ کے خلاف اور اپنے صدر مادورو کی رہائی کیلئے احتجاج کیا۔ تصویر: آئی این این
وینزویلاپر امریکی حملے اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے خلاف عالمی سطح پر بے چینی کا اظہار کیا جارہا ہے۔کئی ممالک نے کارروائی پر تنقید کی ہے جبکہ کچھ ممالک کھل کر امریکہ کی حمایت میں آگئے ہیں۔ جبکہ امریکہ میں حزب اختلاف کے لیڈران نے صدر ٹرمپ کے اقدام پر سوال قائم کئے ہیں۔وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مشاڈو جو اس وقت یوروپ میں ہیں نے امریکی کارروائی کی حمایت کی ہے۔
ونیزویلا نے دنیاسے متحد ہو نے اپیل کی
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان جِل پِنٹونے کراکس پر امریکی حملے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ’’یہ کاروائی اقوامِ متحدہ کے منشور کی `اعلانیہ خلاف ورزی ہے جس نے بین الاقوامی امن و استحکام اور لاکھوں لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ انہوں نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ وینزویلا بین الاقوامی برادری کے سامنے اس انتہائی سنگین عسکری جارحیت کو مسترد کرتا اوراس کی مذمت کرتا ہے۔ امریکی حکومت نے وینزویلا کی سرزمین اور آبادی کے حقوق کی خلاف ورزی کی اور دارالحکومت کراکس اور میرندا، اراگوا اور لا گوئرا صوبوں میں شہری اور عسکری مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ہے کہ ایسی جارحیت خاص طور پر لاطینی امریکہ اور کیریبین کے خطے میں بین الاقوامی امن و استحکام کو اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ پِنٹو نے کہا ہے کہ ’’حملوں کا مقصد وینزویلا کے اسٹریٹجک وسائل، خصوصاً تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا اور قوم کی سیاسی خودمختاری کو کمزور کرنا ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘ وزیرِ خارجہ نے لاطینی امریکہ، کیریبین اور دنیا بھر کے عوام اور حکومتوں سے اس سامراجی جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔
آج وینزویلا ہے کل کوئی اور ملک ہو سکتا ہے، چلی کے صدر
جنوبی امریکی ملک چلی کے صدر گیبریل بورک فونٹ نے وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی پر رد عمل میں کہا ہے کہ آج وینزویلا ہے کل کوئی اور ملک ہو سکتا ہے۔ ایکس پوسٹ میں چلی کے صدرنے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ونیزویلا میں یہ ہو سکتا ہے تو وہ مستقبل میں کہیں اور بھی کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس طرح سے قدرتی وسائل پر کنٹرول کا خطرہ علاقائی سالمیت کے اصول کی سنگین خلاف ورزی ہے اور خطے کی تمام ریاستوں کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لئے چلی اقوام متحدہ سے فوری طور پر کردار ادا کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ ہم ملک کو متاثر کرنے والے سنگین بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وینزویلا کے بحران کو بات چیت اور کثیرالجہتی کی حمایت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ تشدد یا غیر ملکی مداخلت کے ذریعے۔
ٹرمپ کے اقدام سے امریکہ مضبوط نہیں ہوا: کملا ہیرس
امریکہ کی سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ سیاست داں کملا ہیرس نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی ہے۔کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا نہ محفوظ ہوا نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ ایک بیان میں کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ مادورو کا غیر قانونی، ظالم اور آمر ہونا اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ امریکی حملہ غیر قانونی اور غیر دانش مندانہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی تبدیلی یا تیل کے لیے جنگوں کو امریکی طاقت کا مظہر بتایا جاتا ہے لیکن اس کی قیمت امریکی عوام کو اٹھانی پڑتی ہے ۔ کملا ہیرس نے مزید کہا کہ امریکی عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ جھوٹ سن سن کر تنگ آگئے ہیں۔
وینزویلا میں عوامی حکومت کے قیام کا وقت آ چکا ہے: اپوزیشن لیڈر
وینزویلا کی اپوزیشن سیاستدان اور نوبل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا نے صدر نکولس مادرو کی گرفتاری پر کہا کہ وینزویلا میں عوامی حکومت کے قیام کا وقت آ چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر وینزویلا کے عوام کے نام کھلے خط میں ماریہ کورینا نے اپوزیشن لیڈر ایڈمنڈو گونزالیز کی ملک کے نئے لیڈر کے طور پر حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ مادرو کو اب بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اب وینزویلا میں امن ہوگا، سیاسی قیدی رہا کیے جائیں گے۔۲۰۲۴ء کے انتخابات میں حقیقی کامیابی گونزالیز نے حاصل کی تھی۔
وینزویلا کو آزاد رہنا چاہیے:پوپ لیو
پوپ لیو نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی ایک دن قبل معزولی کے بعد اس معاملے کی پیش رفت پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔اولین امریکی پوپ لیو نے وینزویلا کے آزاد رہنے اور وہاں انسانی حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔
کون حامی کون مخالف؟
وینزویلا کی حمایت: روس، چین، برازیل، میکسیکو، کولمبیا، کیوبا، ایران،نارتھ کوریا،بیلاروس،جنوبی افریقہ،فرانس وغیرہ۔
امریکہ کےطرفدار:اسرائیل، اٹلی، ارجنٹائنا،ایل سلوا ڈور، اکواڈور،ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو