عالمی معاہدہ بالائے طاق، یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت

Updated: October 09, 2021, 11:22 AM IST | Agency | Jerusalem

فلسطینی اتھاریٹی نے امریکہ سے اس معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کیا جبکہ حماس نے اس فیصلے کو اعلان جنگ قرار دیا، مسجد اقصیٰ کی نگراں اردن حکومت نے مسجد اقصیٰ کی تاریخی حٰیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ قرار دیا

After the Israeli government and the Israeli force, now the Israeli court should also take action against the law.Picture:INN
اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی فورس کے بعد اب اسرائیلی عدالت بھی قانون کے خلاف اقدام پرزور دے رہی ہے ۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ کچھ عرصے سے صہیونی حکومت اوراس کی فوج  یہودیوں کو پورے تحفظ کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ان حصوں میں عبادت کرنے کی اجازت دے رہی ہے جہاں ان کا داخلہ عالمی معاہدوں کے مطابق ممنوع ہے۔  ان کے ا س جبر کو اب اسرائیل کی ایک عدالت نے بھی جائز قرار دیدیا ہے۔  عدالت کے اس فیصلے پر فلسطینیوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اطلاع کے مطابق اسرائیلی آباد کار ربی عریح لیپو نے مسجد اقصیٰ کے مخصوص احاطے میں یہودیوں کے داخلے پر عارضی پابندی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔مجسٹریٹ عدالت نے ان کی  اس درخواست پر یک طرفہ اور متنازع فیصلہ سناتے ہوئے اسرائیلی پولیس کو حکم دیا  ہے کہ اگر مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کرتے ہیں تو اسے مجرمانہ فعل نہ سمجھا جائے اور نہ ہی انھیں رو کا جائے۔ خیال رہے کہ۱۹۹۴ء میں عمان اور اسرائیل کے درمیان  ہونے والے معاہدے کے تحت مسجد اقصیٰ کے مخصوص احاطے میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت نہیں ہوگی اس حصے میں صرف مسلمان نمازیں ادا کرسکتے ہیں جبکہ یہودی قریبی مغربی دیوار پر عبادت کرسکتے ہیں۔ اس تحریری معاہدے کے باوجود پہلے حکومت نے پولیس کی نگرانی میں یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے اور وہاں عبادت کرنے کی اجازت اور اب عدالت نے بھی ان کے اس غیر قانونی عمل کو جائز قرار دیدیا۔ 
  امریکہ سے مداخلت کا مطالبہ
عدالت کے اس یکطرفہ  فیصلے کے بعد اسرائیل فلسطین معاملے میں ہر بار لاچار نظر آنے والی فلسطین اتھاریٹی نے ایک بار پھر امریکہ کو آواز دی ہے۔  فلسطینی وزیر اعظم محمد ابراہیم شطیح نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے ساتھ ہی  امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے مخصوص احاطے میں یہودیوں کو داخل ہونے سے روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔فلسطینی وزیراعظم نے اسرائیلی  عدالت کے  فیصلے کو یہودیوں کو مسجد اقصیٰ پر مسلط کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے عرب ممالک سے بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کھڑے ہونے کی بھی اپیل کی ہے۔ادھر مسجد اقصیٰ کے کسٹودین( نگراں)اردن نے بھی عدالتی فیصلے کو عمان اور تل ابیب کے درمیان امن معاہدے کی خلاف ورزی  اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اردن نے کہا ہے کہ’’ یہ مسجد اقصیٰ اور اسلام کی بے حرمتی کرنے والا قدم ہے جس کی وجہ سے دنیا بھرکے مسلمانوں کی دل آزاری ہونے اور اشتعال پھیلنے کا  خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔  دوسری جانب یروشلم اور مسجد الاقصیٰ کے امور کے ماہر وکیل خالد زبرقہ نے  بتایا کہ اسرائیلی عدالتی نظام کو مسجد اقصیٰ کی حرمت پر حکمرانی اور عرصے سے جاری روایت کو تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔واضح رہے کہ مجسٹریٹ عدالت کے اس متنازع فیصلے کو اگرچہ اعلیٰ عدالت اور اتھاریٹی سے توثیق کی ضرورت ہے تاہم اس فیصلے نے اسرائیل کے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر ناجائز قبضے کے خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔
  حماس کی نظر میں اعلان جنگ
 غزہ پر حکمرانی کرنے والی اور  بارہا ں اسرائیلی فوج سے لوہا لینے والی جنگجو تنظیم  حماس نے  بھی عدالت کے اس فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ’’ یہ مسجد اقصیٰ کے خلاف ایک ڈھیٹ اشتعال انگیزی ہے اور  سیاسی حقوق کو پامال کرنے والا ایک اعلان جنگ ہے،جو مذہب اور اعتقاد کے خلاف منافرت انگیزی ہے۔ ‘‘ حماس نے اپنے جاری کردی بیان میں یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ ’’ہم اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘   واضح رہے کہ گزشتہ مئی کے مہینے میں جب اسرائیلی فورس کے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا  اور نمازیوں پر فائرنگ کی تھی تو حماس ہی نے اس کے خلاف مزاحمت کی تھی اور کوئی ۱۱؍ دنوں تک اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ چلی تھی جسے بعد میں مصری حکام کے ذریعے کی گئی ثالثی کے ذریعے روکا گیا تھا۔   یروشلم کے مفتی شیخ محمد حسین نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے’’ ہم عرب ممالک اور دیگر مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسجد اقصیٰ اور یروشلم کو حملہ قابض طاقتوں کی آوری کے فیصلے سے بچائیں۔‘‘ انہوں نے ان طاقتوں کو کسی بھی مذہبی جنگ کے چھیڑنے پر متنبہ کیا ہے۔  فی الحال اس معاملے پر سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے حال ہی میں اسرائیل سے دوستی کی ہے اور اس کے تعلق سے نرم گوشہ پیدا کیا ہے جبکہ دیگر عرب ممالک نے ان کے اس فیصلے کی خاموش حمایت کی ہے۔ ان میں سے کسی ملک کی جانب سے کسی بھی طرح کی مخالفت کی توقع بہت کم ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK