Updated: March 19, 2026, 10:38 PM IST
| Washington
امریکی اراکین پالیمان ( سینیٹر ز)نے انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گبارڈسے سخت سوال کرتے ہوئے پوچھا جب ایران کی جوہری تنصیبات تباہ ہوچکی تھی تو امریکہ جنگ میں کیوںداخل ہوا، اس سے قبل تلسی گبارڈ نے بتایا تھا کہ ایران نے ـ جون ۲۰۲۵ء کے حملے کے بعد جوہری کوشش نہیں کی۔
امریکی قومی انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گبارڈ۔ تصویر: ایکس
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں بدھ کو ہونے والی ایک سماعت کے دوران قومی انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گبارڈ سے ایران کے خلاف جنگ کے جواز پر سخت سوالات کیے گئے۔ سینیٹرز نے گبارڈ سے پوچھا کہ اگر ایران کا نیوکلیئر پروگرام پہلے ہی ’’تباہ‘‘ ہو چکا تھا تو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟واضح رہے کہ سماعت کے دوران گبارڈ نے تصدیق کی کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو مہینوں پہلے ختم کر دیا گیا تھا اور انٹیلی جنس کمیٹی نے اس بات کا کبھی اندازہ نہیں لگایا تھا کہ ایران سے کوئی ’’فوری ایٹمی خطرہ‘‘ہے۔ دراصل یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس ایران پر جنگ شروع کرنے کے لیے ’’فوری ایٹمی خطرے‘‘ کو ختم کرنے کے بیانیے کا استعمال کر رہا تھا۔
دریں اثناء سینیٹر جون اوسوف نے سماعت کے دوران قومی انٹیلی جنس کی سربراہ کے ان تحریری بیانات کا حوالہ دیا جن میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ برس جون میں ’’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘‘نے ایران کی نیوکلیئر افزودگی کی صلاحیت کو تباہ کر دیا تھا اور اس کے بعد سےایران کی جانب سے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ تاہم، گبارڈ نے اپنے ابتدائی بیانات میں ’’وقت کی کمی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس حصے کو پڑھنے سے گریز کیا تھا، جس پر سینیٹر مارک وارنر نے شدید تنقید کی اور کہا کہ انھوں نے صدر کے خلاف جانے والے حقائق کو جان بوجھ کر خارج کیا۔سینیٹر اوسوف نے گبارڈ سے پوچھا کہ کیا اس حملے سے پہلے ایران کی طرف سے کوئی ’’فوری ایٹمی خطرہ‘‘ تھا؟ جس پر گبارڈ نے کوئی براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ’’صدر کے علاوہ کوئی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کیا فوری خطرہ ہے اور کیا نہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایرانی حکومت برقرار ہے اگرچہ اس کی فوجی صلاحیتیں بڑی حد تک کمزورہو چکی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سماعت سے دو روز قبل قومی انسداد دہشت گردی کے سربراہ جو کینٹ نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے امریکہ کو کوئی ’’فوری خطرہ‘‘ نہیں ہے۔اور حالیہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دبائو کا نتیجہ ہے۔