ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے طویل جنگ لڑنے کو تیار ہے
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 11:21 PM IST | Tehran
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے طویل جنگ لڑنے کو تیار ہے
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ کشیدگی اور ممکنہ جنگ کو ’’کم از کم چھ ماہ‘‘ تک آسانی سے جاری رکھ سکتا ہے اور اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایسے میں فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو د ئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے پاس وافر وسائل موجود ہیں اور وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے جتنا وقت درکار ہو لڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران کم از کم چھ ماہ تک اس جنگ میں بہت آسانی کے ساتھ برقرار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران نہ صرف عسکری طور پر تیار ہے بلکہ اس نے ممکنہ طویل جنگ کے لیے اپنی حکمت عملی بھی مرتب کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو ایران اپنے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ٹرمپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ امریکہ اس تنازع سے جلد نکلنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن آئندہ دو سے تین ہفتوں کے اندر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی مداخلت ختم کرنے پر غور کر رہا ہے چاہے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں۔ماہرین کے مطابق یہ بیانات خطے میں ایک بڑے سفارتی اور عسکری تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک طرف ایران طویل المدتی مزاحمت کی تیاری کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ اپنی حکمت عملی کو محدود وقت میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ واقعی خطے سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے طاقت کا توازن بدل سکتا ہے، جس کا فائدہ ایران کو ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال اور بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کا شکار ہے اور کسی بھی بڑے فیصلے کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔