نیتن یاہو نے صدرٹرمپ کو امن معاہدہ سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ٹرمپ نے ایک نہ سنی ، ٹیلی فون پر ایک گھنٹے کی گفتگو کے دوران یاہو کو کھری کھری سنائی، اسرائیلی وزیر اعظم آگ بگولہ لیکن چار و ناچار ڈونالڈ ٹرمپ کی بات ماننی ہی پڑی
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 1:01 AM IST | Washington
نیتن یاہو نے صدرٹرمپ کو امن معاہدہ سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ٹرمپ نے ایک نہ سنی ، ٹیلی فون پر ایک گھنٹے کی گفتگو کے دوران یاہو کو کھری کھری سنائی، اسرائیلی وزیر اعظم آگ بگولہ لیکن چار و ناچار ڈونالڈ ٹرمپ کی بات ماننی ہی پڑی
امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو میں ٹھن گئی ہے۔ صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ نے تین باوثوق امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ایران جنگ کے امن معاہدے کے حوالے سے فون پر تقریباً ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی ہے۔ یہ گفتگو کیا تھی ٹرمپ کی جانب سے واضح احکامات تھے جنہیں نیتن یاہو کو ہر قیمت پر ماننا پڑا۔
ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے کی نئی کوشش پر دونوں ہی لیڈروں کے درمیان ایسی ٹیلیفونک گفتگوہوئی جس کی وجہ سے دونوں ہی لیڈر سخت بدمزہ ہوئے بلکہ نیتن یاہو زیادہ پریشان بھی ہوئے اور گھبرابھی گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نےنیتن یاہو سے تند و تیز لہجے میں گفتگو کی ۔ ان پر واضح کردیا کہ امریکہ ہر قیمت پر امن معاہدہ کرے گا ۔ وہ جنگ نہیں چاہتا ۔واضح رہے کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی۔ اسرائیلی و زیرِ اعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی وزیراعظم سخت آگ بگولہ ہو گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دےرہے ہیں۔ دوسری طرف نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے انتہائی مشکوک ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کرکے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کرکے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن ٹرمپ یہ قطعی نہیں چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کیلئے وہ بھی تیار ہیں لیکن وہ پہلے ایک موقع بات چیت اور سفارت کاری کو دینا چاہتے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد وہائٹ ہائوس میں میڈیا سے بات چیت میں ٹرمپ نے یہ واضح کردیا کہ نیتن یاہو ایران کے معاملے میں وہی کریں گے جو میں چاہوں گا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کے تعلقات اچھے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق یاہو بہت اچھے لیڈر ہیں اور وہ میری مرضی بھی جانتے ہیں اس لئے وہ وہی کریں گے جو میں کہوں گا۔