ہرمز کی آبی گزرگاہ سے جانے والے جہازوں سے ۲؍ ملین ڈالر وصول کیے جانے کے دعوے کے حوالے سے پھیلنے والی خبروں پر ہندوستانی میں قائم ایرانی سفارتخانے نے واضح اور سخت موقف اختیار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi
ہرمز کی آبی گزرگاہ سے جانے والے جہازوں سے ۲؍ ملین ڈالر وصول کیے جانے کے دعوے کے حوالے سے پھیلنے والی خبروں پر ہندوستانی میں قائم ایرانی سفارتخانے نے واضح اور سخت موقف اختیار کیا ہے۔
ہرمز کی آبی گزرگاہ سے جانے والے جہازوں سے ۲؍ ملین ڈالر وصول کیے جانے کے دعوے کے حوالے سے پھیلنے والی خبروں پر ہندوستانی میں قائم ایرانی سفارتخانے نے واضح اور سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سفارتخانے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ ایسے تمام دعوے مکمل طور پر جھوٹے، گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سفارتخانے نے یہ بھی واضح کیا کہ اس قسم کی باتیں کچھ افراد کے ذاتی خیالات ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں کسی بھی صورت میں ایران کی سرکاری پالیسی یا موقف کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ایران نے بین الاقوامی سمندری راستوں کے حوالے سے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی جس کے تحت جہازوں سے اس طرح کی بھاری رقم وصول کی جاتی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی حالات کے دوران کئی غیر مصدقہ خبریں اور دعوے سامنے آ رہے ہیں، جن میں سے بعض کو بغیر سرکاری تصدیق کے ہی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ ایران کے سفارتخانے نے ایسے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کے سرکاری موقف کو صرف سرکاری ذرائع کی بنیاد پرسمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ذاتی بیانات یا افواہوں کی بنیاد پر۔
یہ بھی پڑھئے:مغربی ایشیا جنگ: سونے چاندی کی قیمت میں بھاری گراوٹ
بیان میں لکھا گیاکہ ’’ایسی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ایران کی سرکاری پالیسی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ایسے دعوے کچھ افراد کی ذاتی رائے ہیں، جو ایران حکومت کے سرکاری موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔‘‘اس پورے واقعہ کے دوران ایران نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ہرمز کی آبی گزرگاہ بین الاقوامی آمدورفت کے لیے کھلی ہے، حالانکہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات کے باعث کچھ ممالک کے حوالے سے الگ موقف اختیار کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: داسُن شَنَاکا، سَم کرن کی جگہ راجستھان رائلز کا حصہ بن گئے
پیر کو ہندوستانی پرچم والے دو بڑے گیس ٹینکرز کو ہرمز اسٹریٹ پار کرتے ہوئے ٹریک کیا گیا۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق’’جگ وسنت‘‘ اور’’پائن گیس‘‘ نام کے یہ ٹینکر دوپہر کے بعد (مقامی وقت کے مطابق) یو اے ای سے نکل کر ایران کے ساحل کے قریب سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے دکھائی دیے۔