Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران معاہدے پر ٹرمپ کو متاثر کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے: نیتن یاہو

Updated: May 25, 2026, 7:05 PM IST | Tel aviv

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنجامن نیتن یاہو نے بند کمرہ حکومتی اجلاسوں میں اعتراف کیا ہے کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق مؤقف پر اثر انداز ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ایک ممکنہ معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کو اقتصادی اور سیاسی ریلیف فراہم کر سکتا ہے جبکہ اس کے جوہری اور پراکسی نیٹ ورک برقرار رہیں گے۔

Benjamin Netanyahu. Photo: INN
بنجامن نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے بند کمرہ حکومتی مشاورت کے دوران اعتراف کیا کہ انہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات مبینہ طور پر ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل ۱۳؍ نے نامعلوم سیاسی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے حکومت کے اندرونی اجلاسوں میں ابھرتے ہوئے امریکہ ایران معاہدے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ اس وقت اسرائیل کے پاس ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ’’زیادہ گنجائش موجود نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : ایران اور امریکہ معاہدے کے لیے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں: ایرانی وزارت خارجہ

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی سیکوریٹی کابینہ نے اتوار کی شام ایک طویل اجلاس منعقد کیا جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ امریکی معاہدے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اسرائیلی سیکوریٹی اداروں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو ایران کو بین الاقوامی سطح پر سیاسی تحفظ، معاشی دباؤ میں نرمی اور اپنے جوہری پروگرام و علاقائی پراکسی نیٹ ورکس کو برقرار رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ چینل ۱۳؍ کے مطابق واشنگٹن میں اسرائیل کی سفارتی کوششوں کی قیادت سابق اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈیرمر کر رہے ہیں جبکہ امریکی حکام ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ رپورٹ میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو اس معاہدے کو روکنے یا اس کی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : مسلم لیڈران ایران جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل سے امن معاہدے کریں:ٹرمپ

ادھر چینل ۱۳؍ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے قریبی مشیر، جن میں خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنیر شامل ہیں، امریکی صدر پر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر کے اے این نے بھی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے جوہری پروگرام پر کارروائی میں تاخیر اور لبنان میں جنگ بندی کو ایران مذاکرات کے ساتھ جوڑنے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے سنیچر کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ’’بڑے پیمانے پر بات چیت‘‘ ہو چکی ہے اور معاہدہ تقریباً حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق عاصم منیر نے حالیہ ہفتوں میں دوسری مرتبہ تہران کا دورہ کیا، جسے بعض حلقے خطے میں ثالثی کوششوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ ۲۸؍ فروری سے جاری کشیدگی کے بعد ۸؍ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں پہلی مرتبہ جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جس کے بعد خطے میں سفارتی حل کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK