Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: سابق سپریم لیڈر شہید علی خامنہ ای کی تدفین میں بے مثال مجمع

Updated: July 09, 2026, 9:10 PM IST | Mashhad

آخری رسوم کے دوران ایران سمیت دنیا بھر سےایک کروڑ پچاس لاکھ افراد نے خراجِ عقیدت پیش کیا، ٹرمپ اور یاہو سے انتقام لینے کا عزم۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

چھ دن جاری رہنے والی آخری رسوم کے بعد ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعرات کو ملک کے شمال مشرقی شہر مشہد میں سپردِ خاک کردیا گیا۔اس موقع پر لاکھوں افراد مشہد کی سڑکوں پر موجود تھے۔ بہت سے لوگ ایرانی پرچم لہرا رہے تھے جبکہ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے بھی نظر آئے جن پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے نعرے درج تھے۔یاد رہے کہ علی خامنہ ای فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران مارے گئے تھے اور جمعرات کو ان کی تدفین چھ روزہ منظم تقریب کا اختتامی مرحلہ تھی۔ اس عرصے کے دوران جہاں ان کے جسد خاکی کو کو تہران میں عوامی دیدار کے لئے رکھا گیا وہیں اسے ہمسایہ ملک عراق بھی لے جایا گیا جہاں نجف اور کربلا میں ان کی نمازِ جنارہ میں کثیر تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس مدت کے دوران ملک کے مختلف علاقوں اور دنیا بھر سے تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔علی خامنہ ای کو مشہد میں شیعہ مسلک کے آٹھویں امام، امام رضا کے روضے کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔بی بی سی فارسی کے مطابق بدھ اور جمعرات کو امریکی حملوں کی وجہ سے تہران سے مشہد جانے والی ریل سروس متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں شرکت کے لئے سفر کرنے والے بہت سے مسافروں کو ٹرینوں سے اتار کر بسوں کے ذریعے مشہد روانہ کیا گیا۔

ایران اور اردن میں حملوں کی اطلاعات کے درمیان ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی سڑکوں سے گزرا۔تدفین سے قبل گزشتہ چھ روز سے جنازے کی مختلف تقریبات جاری تھیں جن میں پیرکو دارالحکومت تہران میں ۱۰؍ کلومیٹر طویل جلوس بھی شامل تھا جو شہر کے معروف انقلاب اسکوائر سے ہو کر گزرا۔دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیااور آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کا ویڈیو جاری کردیا۔ ویڈیو میں امریکی اور اسرائیلی حملے کانشانہ بننے والے کمپاؤنڈ کے ایک حصے کو دکھایا گیا ہے۔ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر حملہ جنگ کے پہلے ہی روز کیا گیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد شہید ہوگئے تھے۔
واضح ہوکہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے متعدد مقامات پرحملے کیے۔جواب میںایران کے پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی عہد شکنی کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی ختم: خلیج پھر جنگ کے دہانے پر، سفارتی کوششیں تیز

پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی کے پہلے مرحلے میں پاسداران انقلاب کی بحریہ اور فضائی فورسز نے مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت میں عریفجان اور علی السالم، جبکہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی اڈوں کی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکی فوج کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو جوابی حملوں کا دائرہ خطے میں موجود دیگر امریکی اڈوں تک وسیع کر دیا جائے گا۔اس سے پہلے کویت کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بھی بتایا تھا کہ ملک میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں اور شہریوں اورساکنین کو قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK