مغربی بنگال حکومت نے کولکاتا ہائی کورٹ میں کہا کہ اسکولوں میں مڈڈے میل کی ذمہ داری’’ اسکان‘‘ کو سونپنے کی کوئی تجویز نہیں ہے، جبکہ اس تعلق سے عدالت نے حکومت سے حلف نامہ طلب کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 09, 2026, 10:11 PM IST | Kolkata
مغربی بنگال حکومت نے کولکاتا ہائی کورٹ میں کہا کہ اسکولوں میں مڈڈے میل کی ذمہ داری’’ اسکان‘‘ کو سونپنے کی کوئی تجویز نہیں ہے، جبکہ اس تعلق سے عدالت نے حکومت سے حلف نامہ طلب کیا ہے۔
مغربی بنگال کے سابق راجیہ سبھا رکن اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی ترجمان ساکیت گوکھلے نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کی حکومت نے انہیں مطلع کیا ہے کہ اس وقت اسکولوں میں پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل) اسکیم کو انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کونشیئسنس (اسکون) کے حوالے کرنے کی کوئی منظور شدہ تجویز نہیں ہے۔اسے "بنگال کے بچوں کی بڑی کامیابی" قرار دیتے ہوئے گوکھلے نے کہا کہ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کلکتہ کے اسکولوں میں پی ایم پوشن اسکیم کو ہندوتوا سے منسلک اسکون کو سونپنے کی سابقہ تجویز پر تشویش پائی گئی تھی، یہ اقدام مڈ ڈے میل سے انڈے نکال سکتا ہے، بچوں کی غذائیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور سبزی خور ی کو مسلط کر سکتا ہے۔
بعد ازاں گوکھلے نے ایکس پر لکھا، ’’مجھے مغربی بنگال کی حکومت کی طرف سے مطلع کیا گیا ہے کہ اس وقت اسکول کے مڈ ڈے میل سسٹم کو اسکون کے حوالے کرنے کی کوئی منظوری یا تجویز نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ تجویز کے نتیجے میں اسکول کے کھانوں سے انڈے نکال لیے جاتے اور کہا کہ ٹی ایم سی نے اس مخالفت کی جسے انہوں نے بچوں کے لیے غذائیت کے ایک اہم ذریعے سے محرومی قرار دیا۔اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے ٹی ایم سی کی راجیہ سبھا رکن سگاریکا گھوش نے کہا کہ حکومت کے جواب نے پارٹی کے موقف کو درست ثابت کیا ہے۔گھوش نے ایکس پر لکھا، "آر ٹی آئی کا جواب واضح ہے۔ کوئی باضابطہ منظوری، کوئی سرکاری حکم اور کوئی سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہے جس میں بنگال کے اسکولوں کا مڈ ڈے میل اسکون کو سونپا گیا ہو۔ بچوں کے کھانوں سے انڈے نکالنے کے گرد سیاسی غلط معلومات کی مہم بے نقاب ہو گئی ہے۔اے آئی ٹی سی بنگال کے بچوں کے غذائی حقوق کے لیے مضبوطی سے کھڑی رہی، اور سرکاری ریکارڈ اس موقف کو درست ثابت کرتا ہے۔ساتھ ہی اسے بنگال کے بچوں کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: کولکاتا ہائی کورٹ: ایس آئی آر ٹریبونل کو تمام عرضی نمٹانے کیلئے۲۱؍ سال درکار
واضح رہے کہ یہ وضاحت کولکاتا ہائی کورٹ کے مغربی بنگال حکومت کو حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دینے کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ جبکہ ریاست نے عدالت کو بتایا کہ کولکاتا کے اسکولوں میں پی ایم پوشن کھانے کی تیاری’’ اسکون‘‘ کو سونپنے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس تپبرتا چکرورتی اور جسٹس پرتھا سارتی چٹرجی کی ڈویژن بنچ نے یہ ہدایت عوامی مفاد کی درخواست کی سماعت کے دوران دی جس میں مجوزہ اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔اس درخواست میں استدلال کیا گیا کہ اسکیم کو اسکون کوسونپنے سے پی ایم پوشن پروگرام کے تحت طلبا کو انڈوں سے محروم کیا جاسکتاہے اور اسکول کے کھانے تیار کرنے والی ہزاروں خواتین کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔جب عدالت نے سرکاری نوٹیفکیشن طلب کیا تو ایڈووکیٹ جنرل سروجیت ناتھ مترا نے پیش کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا، انہوں نے استدلال کیا کہ درخواست قبل از وقت اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے اس معاملے کو چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا اور ریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اپنا موقف حلف نامے کے ذریعے ریکارڈ پر رکھے۔
یہ بھی پڑھئے: بیوی کو قتل کرکے اکولہ سے فرار شخص ۳۵؍ سال بعد اورنگ آباد میں گرفتار
یاد رہے کہ اسکون کو مڈڈے میل کی تیاری سونپنے کی تجویز کا اعلان۲۲؍ جون کو وزیر خزانہ سوپن داس گپتا کے پیش کردہ ریاستی بجٹ میں کیا گیا تھا۔ اس پر حزب اختلاف کی جماعتوں، خاص طور پر ٹی ایم سی نے تنقید کی، جس نے الزام لگایا کہ اسکیم کو اسکون کو سونپنا بی جے پی حکومت کی طرف سے مڈ ڈے میل کے مینو سے انڈے نکال کر سبزی خوری مسلط کرنے کی کوشش ہے۔