Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران جنگ بندی ختم: خلیج پھر جنگ کے دہانے پر، سفارتی کوششیں تیز

Updated: July 09, 2026, 4:04 PM IST | Tehran

امریکی فضائی حملے، ایران کی خلیجی امریکی اڈوں پر میزائل و ڈرون کارروائیاں، نیٹو اجلاس میں شدید سفارتی کشیدگی؛ اٹلی نے جنگ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گزشتہ سولہ گھنٹوں کی اہم پیش رفت
گزشتہ سولہ گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی نمایاں پیش رفت کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(۱) امریکہ نے ایران میں متعدد نئے فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔
(۲) ایران نے بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا۔
(۳) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ عارضی جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔ 
(۴) اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے واضح کیا کہ اٹلی ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔
(۵) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جواب ’’عمل‘‘ سے دے گا۔
(۶) روس، چین اور اقوام متحدہ نے تمام فریقوں سے تحمل اور سفارتی حل اختیار کرنے کی اپیل کی۔
(۷) عالمی توانائی اور شپنگ مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔

یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ علی خامنہ ای کی آج مشہد میں تدفین

شرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی گزشتہ سولہ گھنٹوں کے دوران ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی۔ چند روز قبل تک جس عارضی جنگ بندی کو سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا، وہ تازہ امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد عملاً غیر مؤثر دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح لفظوں میں اعلان کیا کہ جنگ بندی ’’ختم‘‘ ہوچکی ہے جبکہ ایران نے بھی واضح کردیا کہ وہ ہر حملے کا جواب ’’الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے‘‘ دے گا۔ اسی دوران خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی تنصیبات، آبنائے ہرمز، نیٹو سربراہ اجلاس، یورپی اتحادیوں کے اختلافات اور عالمی منڈیوں میں بے چینی نے اس بحران کو صرف دو ملکوں کا تنازع نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عالمی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔

جنگ بندی پر امریکی مؤقف میں اچانک تبدیلی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے بعد واشنگٹن کے پاس دوبارہ فوجی کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر تہران نے اپنی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ تاہم ایک اور موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی اور اگر ایران نے اشتعال انگیزی بند کردی تو کشیدگی محدود رہ سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیٹو سربراہی اجلاس میں ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کا فیصلہ

امریکہ کے نئے فضائی حملے، متعدد فوجی اہداف نشانہ بنائے گئے
امریکی فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایران کے مختلف علاقوں میں ایک مرتبہ پھر فضائی کارروائیاں کیں۔ مغربی ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور ان مقامات کو نشانہ بنانا تھا جنہیں واشنگٹن آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ بعض اطلاعات میں چابہار اور جنوبی ایران کے دیگر علاقوں کے قریب بھی حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مختلف صوبوں میں شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ 
ایرانی وزارت صحت کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں کم از کم ۱۴؍ افراد ہلاک اور ۷۸؍ زخمی ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم ایرانی سرکاری اداروں نے متعدد علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاع دی ہے۔

ایران کا فوری جواب، خلیج میں امریکی اڈے نشانے پر
امریکی کارروائی کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات کی جانب میزائل اور ڈرون داغے۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام متحرک ہوگئے جبکہ متعدد خلیجی شہروں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ امریکی اور خلیجی حکام نے حملوں کی تفصیلات محدود انداز میں جاری کی ہیں، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیشتر حملوں کو فضائی دفاعی نظام نے روکنے کی کوشش کی۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو آئندہ ردعمل کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکی افواج اپنے دفاع اور خطے میں اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹو سربراہی اجلاس میں ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کا فیصلہ

آبنائے ہرمز پھر عالمی توجہ کا مرکز
تازہ فوجی کشیدگی کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی تشویش کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈالا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا دفاع کر رہا ہے۔ امریکی حملوں کا ایک اہم مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر کرسکتا ہے۔ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف تیل بلکہ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

نیٹو اجلاس پر ایران بحران کے سائے
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہ اجلاس بھی ایران بحران کے باعث غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا۔ اجلاس میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے سخت مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی جبکہ کئی یورپی ممالک نے براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی برقرار رکھی۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی حملوں کو ’’ضروری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کے بعد واشنگٹن کا ردعمل ناگزیر تھا۔ 

اٹلی کا واضح اعلان: ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوں گے
ان حالات میں اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے دوٹوک اعلان کیا کہ اٹلی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے روم کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور اٹلی بحران کے فوجی حل کے بجائے سفارتی راستے کی حمایت کرتا ہے۔ میلونی نے یہ بھی یاد دلایا کہ چند ماہ قبل اٹلی نے امریکی فوجی طیاروں کو سسلی کے سگونیلا ایئر بیس کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ہونے کے باوجود ہر ملک اپنے قومی مفاد اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی ختم ، ایران پر پے در پے حملے ، کشیدگی بڑھ گئی

ایران کا دوٹوک پیغام: جواب عمل سے دیا جائے گا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران دھمکیوں یا اشتعال انگیز بیانات کا جواب الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہم اس جواب عملی طور پر دیں گے؛ بے خوفی اور پوری جرات کے ساتھ۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ٹرمپ ’’ہماری پہنچ میں تھے‘‘، ایرانی سابق عہدیدار کا دعویٰ
ایران کے سابق وزیر اور سرکاری نشریاتی ادارے کے سابق سربراہ عزت اللہ ضرغامی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ نیٹو اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی جوابی کارروائی کی ’’پہنچ میں‘‘ تھے، تاہم ایران نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے انہیں نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے ترکی کے سفیر کو طلب کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور الزام عائد کیا کہ ٹرمپ نے ترکی میں موجودگی کے دوران ایران پر حملوں کے احکامات جاری کیے۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی امریکہ یا ترکی نے ان کی توثیق کی ہے۔

روس اور چین نے تحمل پر زور دیا، اقوام متحدہ کو متحرک کرنے کی کوششیں تیز
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی جھڑپوں کے بعد روس اور چین نے ایک مرتبہ پھر سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی امن کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائیاں مزید عدم استحکام پیدا کریں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ماسکو اور بیجنگ مختلف بین الاقوامی فورمز پر بحران کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ چین نے بھی تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، طاقت کے استعمال سے گریز کرنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اقوام متحدہ کی تشویش، مزید جنگ سے خبردار
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے تازہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے فوری طور پر تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان مسلسل رابطے میں ہیں اور مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔ مغربی اور ایشیائی ممالک کے سفارت کار بھی پس پردہ رابطوں کے ذریعے کسی نئے سفارتی فارمولے کی تلاش میں ہیں تاکہ خطہ مکمل جنگ کی طرف نہ بڑھ سکے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی حملے کے بعد ایران کے اعلیٰ مذاکرات کا ر کا امریکہ کو سخت پیغام

اسرائیل مسلسل رابطے میں، فوج الرٹ پر
اگرچہ گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی اور ایرانی کارروائیاں زیادہ نمایاں رہیں، تاہم اسرائیلی فوج نے بھی اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری جواب دیا جائے گا۔ سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ فضائی دفاعی نظام کو مکمل الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار ہے اور دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت خطے کی بدلتی صورتحال کا مشترکہ جائزہ لے رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فی الحال بڑے پیمانے پر نئی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دفاعی ادارے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ، امریکی اڈوں کی سیکوریٹی مزید سخت
ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد بحرین، قطر، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں سیکوریٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ متعدد امریکی اڈوں پر اضافی دفاعی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے تحت نقل و حرکت پر بھی جزوی پابندیاں عائد کی گئیں۔ خلیجی حکومتیں بیک وقت دوہری حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے دفاعی تعاون کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ جنگ پورے خطے میں نہ پھیل سکے۔

تیل کی عالمی منڈی میں بے چینی برقرار
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی مسلسل دباؤ میں ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر مزید دباؤ بڑھاتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر فوجی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، شپنگ انشورنس کے اخراجات میں اضافہ اور عالمی تجارتی سپلائی چین میں نئی رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں بھی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا بھی محاذ بن گیا
میدان جنگ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی اس بحران کا ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، امریکی سینٹرل کمان، ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر سرکاری ادارے مسلسل اپنے بیانات اور مؤقف عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی حکام بھی ایکس سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے جوابی اقدامات کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران میں سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس سفارتی پیغامات پہنچانے کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں، تاہم غیر مصدقہ دعوؤں اور ویڈیوز کی بڑی تعداد بھی گردش کر رہی ہے، اس لیے متعدد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

عالمی سفارت کاری کا امتحان
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ بحران صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ سفارت کاری کا بھی امتحان ہے۔ امریکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، ایران اپنی جوابی صلاحیت کا اظہار کر رہا ہے جبکہ یورپی ممالک براہ راست جنگ سے بچنے کی کوشش میں ہیں۔ روس اور چین مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ مسلسل تحمل کی اپیل کر رہی ہے۔ اب تمام نظریں آئندہ چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔ اگر مزید حملے ہوتے ہیں تو بحران پورے خطے میں پھیل سکتا ہے، جبکہ اگر سفارتی رابطے مؤثر ثابت ہوئے تو کشیدگی کو محدود رکھنے کی نئی کوششیں سامنے آسکتی ہیں۔ فی الحال صورت حال انتہائی غیر یقینی ہے اور ہر نئی پیش رفت پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ
تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر ایران، اسرائیل اور خلیجی خطے میں عام شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے بعد امدادی ادارے متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ امریکی اور خلیجی حکام نے بھی اپنے فوجی اور سفارتی مراکز پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ جنگی حالات کے باعث کئی علاقوں میں فضائی حدود، بحری نقل و حرکت اور شہری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھی تو لاکھوں شہری بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیوں سے صحت، خوراک، ایندھن، نقل و حمل اور بنیادی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ خطے میں پہلے سے جاری انسانی بحران مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے
اگرچہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کو ختم قرار دیا ہے، تاہم امریکی حکام نے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ دوسری جانب ایرانی قیادت نے بھی سخت بیانات کے باوجود یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر حملے بند ہوتے ہیں تو سفارتی راستہ دوبارہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک بیک وقت عسکری دباؤ اور سفارتی رابطوں کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستیں، پس پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ تنازع مزید پھیلنے سے پہلے امریکہ، ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان کسی نئی مفاہمت کی راہ نکالی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ہندوستانی پولیس افسر پر لاس اینجلس کے خاندان سے ہفتہ وصولی کا الزام

عالمی معیشت پر براہ راست اثرات
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے عالمی منڈیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ دنیا کی قابلِ ذکر مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی آبی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی فوجی تصادم کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تازہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں نے بھی خطے میں خطرات کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی محدود رہی تو منڈیاں نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہیں، تاہم جنگ کے دائرے میں وسعت آنے کی صورت میں توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ 
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ۲۴؍ سے ۴۸؍ گھنٹے اس بحران کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں جانب سے مزید حملے ہوتے ہیں تو تصادم صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسرائیل، خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر پس پردہ سفارتی رابطے نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو ایک نئی محدود جنگ بندی یا مذاکراتی عمل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ فی الحال صورتحال نہایت غیر یقینی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل تینوں اپنی عسکری تیاری برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ عالمی برادری کی کوشش ہے کہ یہ بحران ایک ایسی علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کی سلامتی تک پہنچ جائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK