Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ قومی ورثہ قرار

Updated: April 30, 2026, 10:00 PM IST | Tehran

ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کو قومی ورثہ قرار دینے کا اعلان کیا ہے، جسے سادگی اور انقلابی تاریخ کی علامت کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔ تاہم اسی خبر میں شامل دعوے، جیسے ان کی موت، بیرونی حملہ اور خفیہ نگرانی، کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جس کے باعث صورتحال حساس اور متنازع بنی ہوئی ہے۔

Former Supreme Leader of Iran Ayatollah Ali Khamenei. Photo: INN
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این

ایران کی حکومت نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کو باضابطہ طور پر قومی ورثہ قرار دینے کا اعلان کیا ہے، جسے ریاستی سطح پر ایک اہم تاریخی اور نظریاتی مقام کے طور پر محفوظ کیا جائے گا۔ یہ اعلان سرکاری خبر رساں ادارے اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے ذریعے سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ اس اقدام کی منظوری رسمی خط و کتابت کے بعد دی گئی۔ ایران کی وزارتِ ثقافتی ورثہ کے نائب وزیر علی درابی نے کہا کہ اس منصوبے پر کافی عرصے سے کام جاری تھا اور اب اسے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’رہبر معظم کے دفتر اور رہائش گاہ کو قومی سائٹ کے طور پر رجسٹر کرنے کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: تیل کی عالمی قیمت ۱۴۰؍ ڈالر تک پہنچ جائے گی: باقر قالیباف

حکام کے مطابق یہ رہائش گاہ، جسے اکثر ’’سادہ گھر‘‘ (ہمبل ہوم) کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، کئی دہائیوں تک اہم سیاسی فیصلوں اور سفارتی ملاقاتوں کا مرکز رہی۔ اسے اسی حالت میں محفوظ رکھنے کا منصوبہ ہے تاکہ آئندہ نسلیں اس دور کی سادگی اور نظریاتی بنیادوں کو سمجھ سکیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق، اس مقام کو ایک ’’زندہ میوزیم‘‘ میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں دستاویزات، ذاتی اشیاء اور اہم تاریخی لمحات کو ڈجیٹل اور فزیکل انداز میں پیش کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ایک تعلیمی مرکز اور ڈجیٹل آرکائیو بنانے پر بھی کام جاری ہے، جس سے زائرین کو ایران کی جدید تاریخ کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے: جانئے ’’الیکسی مورداشوف‘‘ کون ہیں جنہوں نے سپر یاٹ سے آبنائے ہرمز پار کی

یہ اقدام موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری کے بعد حتمی شکل اختیار کر گیا، جسے حکام ایک اہم علامتی حمایت قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی لیڈر کی رہائش گاہ کو قومی ورثہ قرار دینا عام طور پر ایک علامتی اقدام ہوتا ہے، جس کا مقصد اس کی سیاسی اور نظریاتی میراث کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ ایران کے اس فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں سادگی اور انقلابی شناخت کو اجاگر کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK