Inquilab Logo Happiest Places to Work

حتمی معاہدہ تک پہنچنے کیلئے ایران کو۷؍دن کی مہلت

Updated: May 26, 2026, 11:13 AM IST | Washington

ٹرمپ نے کہا ’تہران کیساتھ کوئی نقصاندہ اور اوبامہ جیسا معاہدہ نہیں کروں گا‘‘صدر جلدبازی میں معاہدہ کے حق میں نہیں۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کے ساتھ کسی بھی فوری معاہدے کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی معاہدے میں جلد بازی کے حق میں نہیں ہیں۔ فاکس نیوز کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ پیر کے روز کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے تاہم صدر ٹرمپ نے ایران کو ۵؍سے ۷؍دن کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایک قابلِ قبول معاہدے کی تیاری مکمل کرے جس کی بنیاد یہ ہوگی کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ذخیرہ نہ ہو اور منجمد اثاثے بھی موجود نہ رہیں۔ اہلکار کے مطابق ایران نے اصولی طور پر اس فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے اور اس کا تقریباً ۹۵؍فیصد حصہ طے پاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ذخائر اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی معاہدہ ہو چکا ہے جبکہ صرف حتمی مسودے کی تیاری باقی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر نے پلیٹ فارم ’ٹروتھ ‘ پر لکھا کہ ایران سے مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں جاری ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا اسرائیل میں عرب سیاسی پارٹی رعام پر پابندی لگائی جارہی ہے؟

ان کے مطابق انہوں نے مذاکراتی وفد کو ہدایت دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ وقت ان کے حق میں ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر بحری دباؤ (سی گارڈ/بحری ناکہ بندی) کو اس وقت تک برقرار رکھنے کا بھی عندیہ دیا، جب تک کوئی معاہدہ طے پا کر اس کی منظوری اور دستخط نہیں ہو جاتے۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوران غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور اب ایسی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں جن سے لگتا ہے کہ تنازعہ کے فریقین ایک ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی نقصان دہ معاہدہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا جس پر جلد ہی دستخط ہونے کی توقع کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ٹرمپ نے ’اے بی سی‘ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں بات نہیں کر سکتا اور یہ معاملہ صرف مجھ پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے سے متعلق کوئی بھی خبر اچھی ہوگی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران پر محاصرہ پوری طاقت کے ساتھ اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک کہ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا اور اس پر دستخط نہیں ہو جاتے۔ وہیں ایران کے ساتھ معاہدہ اپنے آخری مراحل میں ہونے کا اعلان کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ایک بیان کے ردِ عمل میں یہ بھی کہا کہ ان کا یہ معاہدہ اوباما جیسا نہیں ہوگا۔ ’ٹروتھ‘ پر ایک پوسٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اوبامہ دور کے ایران نیوکلیئر معاہدے پر تنقید کی اور دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ امریکی صدر نے لکھا کہ اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا، اُس معاہدے جیسا نہیں جو اوبامہ نے کیا تھا، جس نے ایران کو بے تحاشا نقد رقم دی اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اگر انہیں (مودی) کوئی ’’طبی مسئلہ‘‘ نہیں تو یقیناً انہوں نےمیری بات سنی تھی: نارویجین صحافی ہیلےلینگ

مائیک پومپیو نے ایران معاہدے پر کیا کہا کہ وہائٹ ہاؤس سینئر اہلکار آپے سے باہر ہوگئے؟ ٹرمپ نے کہاکہ ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے، لیکن ابھی تک کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ ابھی تو اس پر مکمل مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔ لہٰذا اُن ناکام لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں جو ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے کے صدور کو یہ مسئلہ بہت پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، ان کے برعکس میں خراب ڈیل نہیں کرتا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کریں کیونکہ وقت ہمارے حق میں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK