Updated: May 25, 2026, 10:03 PM IST
| Oslo
لینگ نے بتایا کہ اگر مودی جواب دینے کیلئے رک جاتے تو وہ ان سے ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور میڈیا کی آزادی پر سوالات کرتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ کیا ہندوستانی حکومت کا بین الاقوامی تنظیموں اور خود ہندوستان کے اندر سے اٹھنے والی تنقیدی آوازوں پر توجہ دینے کا کوئی منصوبہ ہے؟
نریندر مودی اور ہیلے لینگ۔ تصویر: ایکس
۱۸ مئی کو ناروے کے دورے پر ایک پریس بیان کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے بآواز بلند سوال کرنے والی نارویجین صحافی ہیلے لینگ کو خوب توجہ مل رہی ہے۔ انگریزی روزنامہ دی ٹیلی گراف کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ ”مجھے پورا یقین ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نے اوسلو میں مشترکہ میڈیا کانفرنس کے دوران ان کا سوال سنا تھا۔“ انہوں نے ان مفروضوں کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ وزیراعظم نے شاید ان کے تبصرے پر توجہ نہیں دی تھی۔ لینگ نے بتایا کہ جب انہوں نے مودی سے یہ پوچھا کہ وہ پریس سے سوالات کیوں نہیں لیتے، تو وہ ان سے محض کچھ ہی فاصلے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
نارویجین صحافی نے کہا کہ ”مجھے یقین ہے کہ انہوں نے مجھے سنا... الا یہ کہ انہیں صحت کا کوئی مسئلہ ہو، جس کا مجھے علم نہیں۔ میں ان سے زیادہ دور نہیں تھی۔ میں ایک بہت ہی چھوٹے سے کمرے میں دوسری لائن میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اور جب میں نے وہ سوال پوچھا تو وہ بس باہر ہی نکل رہے تھے۔“
یہ بھی پڑھئے: نارویجین اخبار ’آفتن پوستن‘ میں مودی کو ’سپیرے‘ کے طور پر پیش کرنے والے کارٹون پر ہندوستان میں برہمی
واضح رہے کہ لینگ نے ۱۸ مئی کو ناروے کے وزیرِ اعظم جوناس گہر اسٹورے کے ساتھ مودی کے مشترکہ پریس بیان کے بعد انہیں آواز دیتے ہوئے پوچھا تھا: ”وزیرِ اعظم مودی، آپ دنیا کے آزاد ترین پریس سے کچھ سوالات کیوں نہیں لیتے؟“ مودی بغیر کوئی جواب دیئے وہاں سے چلے گئے تھے۔
انٹرویو میں لینگ نے بتایا کہ اگر مودی جواب دینے کیلئے رک جاتے تو وہ ان سے ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور میڈیا کی آزادی پر سوالات کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بات کرنا چاہتی تھی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ کیا ہندوستانی حکومت کا بین الاقوامی تنظیموں اور خود ہندوستان کے اندر سے اٹھنے والی تنقیدی آوازوں پر توجہ دینے کا کوئی منصوبہ ہے؟ وہ یہ بھی پوچھنا چاہتی تھیں کہ مودی نے اپنے دورِ اقتدار میں ہندوستان میں آزاد صحافیوں کے ساتھ بغیر اسکرپٹ کے پریس کانفرنسیز کیوں نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ معاہدے کے لیے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں: ایرانی وزارت خارجہ
لینگ نے بتایا کہ اس واقعے کے وائرل ہونے کے فوراً بعد انہیں اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ”مودی کے ملک سے روانہ ہونے کے بعد... مجھے انسٹاگرام سے باہر نکالا جانے لگا۔ اچانک اسی رات میرا انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹ معطل ہوگیا۔“ لینگ کے مطابق، ان کے اکاؤنٹس کو بار بار بحال اور پھر معطل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "انہوں نے پہلے کبھی اس طرح کا تجربہ نہیں کیا تھا“۔
نارویجین صحافی نے ہندوستانی میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا صارفین کے ردِعمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کو آزادیِ صحافت کے بجائے خود ان کی ذات کے گرد گھما دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے اس معاملے کو اپنے بارے میں نہیں بنایا تھا۔ ’ناروے میں آزادیِ صحافت پر مودی سے بازپرس‘ کی سرخی لگانے کے بجائے، انہوں نے اسے صحافی کے متعلق کہانی بنانے کا فیصلہ کیا۔“
یہ بھی پڑھئے: فلسطین کے خلاف جنگ میں ۵۱؍ ممالک نےاسرائیل کو ہتھیار دیئے
لینگ نے اس واقعہ کے بعد ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری سیبی جارج کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی کا بھی ذکر کیا، جن کے سامنے انہوں نے ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جارج نے اپنے جواب میں میرے اٹھائے گئے مسائل پر براہِ راست بات کرنے کے بجائے ہندوستان کی تہذیب اور کامیابیوں پر توجہ مرکوز کی۔
انٹرنیٹ پر ہونے والی ٹرولنگ اور خود پر لگنے والے الزامات کے باوجود، لینگ نے کہا کہ انہیں ہندوستانیوں کی طرف سے بڑی تعداد میں حمایتی پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آج بھی مجھے انسٹاگرام پر ہر منٹ میں تین سے چار پیغامات مل رہے ہیں، جن میں لوگ میرا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔“