ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کےسیکریٹری نے کہاکہ ان شرائط پرامریکہ کو جلد اپنا موقف واضح کرنا ہوگا، جنگ ختم کرنے کا فیصلہ اسی پرمنحصر ہے۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 12:47 PM IST | Agency | Tehran
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کےسیکریٹری نے کہاکہ ان شرائط پرامریکہ کو جلد اپنا موقف واضح کرنا ہوگا، جنگ ختم کرنے کا فیصلہ اسی پرمنحصر ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کےسیکریٹری محسن رضائی نے ہفتہ کو قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے اور جنگ کے خاتمے کیلئے اپنی شرائط بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق رضائی نے ایک میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو جلد ہی ان شرائط پر اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ ایرانی سلامتی کے سربراہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران کے بارے میں اندازہ اور حساب کتاب پوری طرح غلط ثابت ہوا ہے اور یہ جنگ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اکسانے پر شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسٹر ٹرمپ کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور ایران ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی فوج کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں اور امریکی فضائی حملوں کا سامنا کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر اہل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ معاہدہ سے دستبردار ہونے کے بعد تہران کو واشنگٹن کے تئیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں ایران نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب بحری جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کرکے اپنی تیاریوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یمن ایرانی سودے بازی کا پتہ نہیں: وزیر خارجہ
قطر کے ثالث کے ذریعے امریکہ کو بھیجی گئی اہم شرائط میں تمام محاذوں پر جاری فوجی تصادم اور جنگ پر مکمل روک، امریکہ کی جانب سے ضبط کی گئی تمام ایرانی املاک کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ہٹانا شامل ہے۔رضائی نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات ایران کو `جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک این پی ٹی سے دستبردار ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور یہ مکمل طور پر امریکہ کے طرز عمل پر منحصر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل نے ناکہ بندی کرکے ۱۰۰؍ سے زائد فلسطینی اساتذہ کو اسکول جانے سے روکا
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے والے فتویٰ اور اپنے جوہری نظریے پر قائم ہے، لیکن مستقبل کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔یمن اور سعودی عرب کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے مسٹر رضائی نے کہا کہ ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ یمن کے عوام بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے حامی ہیں۔
ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے: قالیباف
ایرانی مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے اپنے ملک کے سابقہ مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا’’ سفارتی محاذ پر ہمارا موقف بالکل واضح، منطقی اور اٹل ہے۔ایرانی چیف مذاکرات کار نے مزید کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنے پیغامات اور شرائط فریقِ مقابل تک واضح طور پر پہنچا دی ہیں۔انہوں نےواضح کیا کہ مذاکرات کی سابقہ شرائط کی طرف واپس جانے یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔