اسرائیلی صدر نے حکومت سازی کیلئے نیتن یاہو کے مخالف آئزن کوٹ کو منتخب کیا ہے، آئزن کوٹ کو جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان متنوع جماعتوں کو متحد کرنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 3:07 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی صدر نے حکومت سازی کیلئے نیتن یاہو کے مخالف آئزن کوٹ کو منتخب کیا ہے، آئزن کوٹ کو جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان متنوع جماعتوں کو متحد کرنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے سب سے مضبوط سیاسی حریفوں میں سے ایک گادی آئزن کوٹ کو قریبی مقابلے والے انتخابات جس میں کسی بھی لیڈرکو اقتدار حاصل کرنے کے لیے کافی حمایت نہیں ملی، کے بعد نئی حکومت بنانے کی کوشش کے لیے منتخب کیا ہے۔
نیتن یاہو، اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم،۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات میں ان کے مذہبی-قوم پرست اتحاد کی پارلیمانی اکثریت کھونے کے بعد عہدے پر رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کی لیکوڈ پارٹی پھر بھی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد پارٹی کے طور پر ابھری۔
سابق فوجی سربراہ آئزن کوٹ کو قانون سازوں کی طرف سے سب سے زیادہ توثیق ملی، بشمول عرب جماعتوں کے لیڈروں کی۔ہرزوگ کے ترجمان نے کہا، ’’صدر ہرزوگ نے گادی آئزن کوٹ کو صدر کی رہائش گاہ پر مدعو کیا ہے، جہاں انہیں کل حکومت بنانے کا کام سونپا جائے گا۔‘‘اسرائیلی صدر کا کردار بڑی حد تک رسمی ہے، لیکن وہ انتخابات کے بعد اتحاد بنانے کا پہلا موقع حاصل کرنے والے امیدوار کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔آئزن کوٹ نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کا جواب دیا، لکھا، ’’اب قومی ہنگامی حکومت بنانے کا وقت ہے۔ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ ہم اس کے لائق ہوں۔‘‘
واضح رہے کہ آئزن کوٹ کو اب ایک مشکل کام کا سامنا ہے کیونکہ وہ حکومت بنانے کے لیے کافی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حتمی فیصلے سے پہلے ہفتوں کے سیاسی مذاکرات کی توقع ہے۔ان کے پاس اتحاد بنانے کے لیے۲۸؍ دن ہیں، اگر ضرورت ہو تو مزید۱۴؍ دن حاصل کرنے کا متبادل ہے۔چند ممکنہ طریقے ہیں جن سے وہ مطلوبہ تعداد تک پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایک آپشن اقلیتی حکومت بنانا اور پارلیمنٹ میں اہم مسائل پر عرب جماعتوں کے ووٹوں پر انحصار کرنا ہے۔وہ انتہائی قدامت پسند جماعتوں کو اپنے اتحاد میں لانے کی بھی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم، آئزن کوٹ اور ان کے سیاسی اتحادیوں نے ماضی میں ان جماعتوں کے ساتھ کام کرنے سے گریز کیا ہے۔
ایک اور امکان نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد حکومت ہے، اگرچہ آئزن کوٹ نے بار بار ان کے ماتحت خدمات انجام دینے کی مخالفت کی ہے۔تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تینوں متبادل کے کام کرنے کا امکان نہیں ہے۔
اگر آئزن کوٹ حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں، تو کسی اور امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ شخص بھی ناکام رہتا ہے، تو پارلیمنٹ کسی اور کو نامزد کر سکتی ہے۔پورے عمل کی ڈیڈ لائن تقریباً۱۰۰؍ دن ہے۔ اگر اس مدت کے اندر کوئی امیدوار حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا، تو اسرائیل کو ایک اور انتخاب کرانا ہوگا۔
انتخابی نتائج نے اسرائیل کو ایک تقسیم شدہ پارلیمنٹ کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔
نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں۲۷؍ نشستیں جیتیں، جو اسے سب سے بڑی واحد پارٹی بناتی ہے۔ تاہم، ان کے وسیع مذہبی-قوم پرست اتحاد نے صرف۵۳؍ نشستیں حاصل کیں، جو اکثریت کے لیے درکار۶۱؍ سے کم ہیں۔آئزن کوٹ کی یشار پارٹی ۲۱؍ نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئی۔ ان کے وسیع اتحاد، جس میں مرکز-بائیں سے دائیں تک کی چار یہودی قیادت والی جماعتیں شامل ہیں، نے۴۸؍ نشستیں جیتیں۔دریں اثنا، اسرائیل کی عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جو کمیونٹی کے لیے ایک بے مثال نتیجہ ہے۔ بعد ازاں اگلی حکومت بنانے کی کوششوں میں ان کی حمایت اہم ہو گئی ہے، اگرچہ آئزن کوٹ نے ان کے ساتھ باضابطہ طور پر مل کر کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ۶۶؍ سالہ گادی آئزن کوٹ، ایک سابق فوجی سربراہ اور مراکشی تارکین وطن کے بیٹے ہیں۔ اگر وہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں، تو وہ اسرائیل کے مزراہی یہودی برادری سے پہلے لیڈر ہوں گے، جن کے اراکین کی جڑیں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے ہیں۔ آئزن کوٹ نے صرف ۲۰۲۲ءمیں سیاست میں قدم رکھا۔انہوں نے۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد مختصر طور پر نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم، بعد میں انہوں نے حکومت چھوڑ دی اور اپوزیشن میں واپس آ گئے۔
تب سے، انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت پر کھل کر تنقید کی ہے، خاص طور پر غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے ان کے انتظام پر۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی قیادت والی حکومت میں خدمات انجام نہیں دیں گے۔آئزن کوٹ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد پر بھی تنقید کی ہے، جو۲۰۲۳ء سے بڑھ گیا ہے۔تشدد نے اسرائیل اور کئی مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔