• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار کرلیا

Updated: January 15, 2026, 10:54 PM IST | Tehran

اگر امریکہ نے حملے کی غلطی کی تو مشرق وسطیٰ میں اس کے کئی فوجی اڈے نشانہ پر ہوں گے،خطے میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، عرب ممالک امریکہ کو باز رکھنے کیلئے کوشاں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے متنبہ کیا کہ’’ امریکہ نے جو غلطی جون میں کی تھی اسے دہرانے کی ہمت نہ کرے‘‘

Demonstrations in support of the government are ongoing in Iran, while opposition demonstrations have stopped. (PTI)
ایران میں حکومت کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں، مخالفت والے مظاہرے رُک گئے ہیں ۔(پی ٹی آئی )

ایران میں مظاہرے اور احتجاج کو ہوا دینے کے بعد امریکہ نے اشتعال انگیز بیان بازی شروع کردی ہے تاکہ وہ ایران پر حملے کا جواز پیدا کرسکے لیکن اس مرتبہ اس کے لئے کارروائی اتنی آسانی نہیں ہو گی کیوں کہ ایران نے بھی ممکنہ جوابی کارروائی کا مکمل منصوبہ یا بلیو پرنٹ تیار کرلیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ کی تمام اہم  امریکی فوجی تنصیبات، جن میں عراق اور شام میں موجود فوجی اڈے بھی شامل ہیں، کو اپنے میزائلوں کے نشانے پر لیتے ہوئے ممکنہ جوابی اقدامات کی تیاری کر لی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ پہلا حملہ نہیں کریگا لیکن اگر امریکہ نے کوئی غلطی کی تو وہ جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونا لڈ ٹرمپ بارہا فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں زبردست کشیدگی پھیلی ہوئی ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر  پر بیٹھا ہوا ہے۔ 
حملے کیلئے امریکی صدر کی بے چینی 
  امریکی صدر ٹرمپ اب ایران پر حملے کے لئے پرتول رہے ہیں۔ وہ میڈیا سے گفتگو میں بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ  خود کو کارروائی کرنے کے دباؤ میں محسوس کر رہے ہیں۔  ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران پر کارروائی کے لئے اب ایک ریڈ لائن قائم کر دی ہے  اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ اسی دوران امریکی انتظامیہ کے اندر بحث جاری ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سینئر حکام کا ایک اجلاس طلب کیا جس میں صورتِ حال پر غور کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم اس بات پر منقسم ہے کہ آیا براہِ راست فوجی حملہ کیا جائے یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی میں زمینی افواج تعینات نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی طویل المدتی فوجی مہم کا ارادہ ہے۔ اس حوالے سے ایک  متبادل ایران کی سیکوریٹی سروسیز سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ 
 ایران پر ۲۴؍ گھنٹوں میں حملہ ہو سکتا ہے 
  ایران میں جاری مظاہروں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، یورپی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکہ آئندہ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف فوجی حملہ کر سکتا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان اشتعال انگیز بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے ایرانی مظاہرین کی حمایت میں گزشتہ دنوں دیئے۔ اسی وجہ سے ایران  نے جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔  
ایران نے فضائی حدود دوبارہ کھول دیں 
 امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے عارضی طور پر فضائی حدود بند کرنے کے بعد کمرشیل پروازوں کیلئے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔ یہ اقدام تہران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق بڑھتی ہوئی خبروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا کے فلائٹ آپریشنز جو مشرق وسطیٰ کے لئے تھے متاثر ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن ایران نے کمرشیل فلائٹس کے لئے فضائی حدود کو دوبارہ بحال کردیا ۔
ایران کی وارننگ 
 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے  امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ دوبارہ وہی غلطی نہ دہرائے۔ ان کا اشارہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ کے حملے کی طرف تھا۔   انہوں نے جون ۲۰۲۵ءمیں ۱۲؍ روزہ ایران۔اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ میرا پیغام یہ ہے کہ جون میں جو غلطی آپ نے کی تھی، اسے دوبارہ نہ دہرائیں۔ اگر آپ ایک ناکام تجربہ دوبارہ آزمائیں گے تو نتیجہ بھی وہی ہوگا۔ امریکہ کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے اہداف بھی ہمارے نشانے پر آسکتے ہیں۔

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK