Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیبیا: معمر قذافی کی بیٹی کا ایرانیوں کو مغرب کے وعدے پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ

Updated: March 04, 2026, 8:08 PM IST | Muscat

لیبیا کے سابق لیڈر معمر قذافی کی بیٹی نے ایرانیوں کو مغرب کے وعدوں پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، انہوں نے لیبیا کی مثال دے کر بتایا کہ کس طرح ہتھیار ختم کرنے کے فیصلے کے بعد ان کے ملک میں نیٹو کے ذریعے فوجی مداخلت کرکے ریاست کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔

Aisha Gaddafi, daughter of former Libyan leader Muammar Gaddafi. Photo: X
لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی۔ تصویر: ایکس

عمان میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے ایرانی عوام کے نام ایک دردمندانہ پیغام جاری کیا ہے جس میں انہیں مغربی طاقتوں کی مذاکرات کے ذریعے امن کی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اپنے اس بیان میں انہوں نے ۲۰۰۰ءکی دہائی کے اوائل میں لیبیا کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام ختم کرنے کے فیصلے اور ۲۰۱۱ءمیں نیٹو کی زیر قیادت فوجی مداخلت کے درمیان براہ راست کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں لیبیا کی ریاست کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ ان کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی-اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی بچیوں اور عملے کی اجتماعی نمازِ جنازہ اداکی گئی

شکستہ دل کی آواز
عائشہ قذافی نے ایرانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”اے ثابت قدم اور آزادی پسند قومِ ایران! میں آپ سے تباہی، درد اور دھوکے سے بھرے دل سے مخاطب ہوں۔“ انہوں نے مزید کہا، ”میں اس عورت کی آواز ہوں جس نے اپنے ملک کی بربادی دیکھی، کھلے دشمنوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ مغرب کی فریب دہ مسکراہٹوں اور جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنس کر۔“۲۰۱۱ء میں لیبیا پر نیٹو کے حملے سے پہلے کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے والد جوہری اور میزائل پروگرام ختم کرنے پر راضی ہو گئے تھے جس پر انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ دنیا کے دروازے ان کے لیے کھل جائیں گے۔ لیکن انجام یہ ہوا کہ نیٹو کے بم نے ان کی سرزمین کو ملبے میں تبدیل کر دیا۔
سودے بازی سے خبردار
عائشہ قذافی نے لیبیا کے تجربے کو مغربی طاقتوں سے سمجھوتے کے خلاف ایک انتباہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو مراعات دینا تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا۔ انہوں نے کہا کہ بھیڑیا سے مذاکرات بھیڑ کی حفاظت نہیں کریں گے بلکہ اگلی دعوت کی تاریخ طے کریں گے۔ ان کے خیال میں یہ پیغام ایران کے ایٹمی پروگرام اور مغربی پابندیوں پر ہونے والی بات چیت سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جوابی حملوں پر حیران، جھلاہٹ کا شکار

ایرانی استقامت کی تعریف
 اپنے پیغام میں انہوں نے ایرانی عوام کی پابندیوں کے خلاف استقامت اور حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی جرأت اور استقامت آپ کی قوم کی سربلندی کی دلیل ہے۔ انہوں نے کیوبا، وینزویلا، شمالی کوریا اور فلسطین جیسے ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ رہیں جو ثابت قدم رہیں۔واضح رہے کہ عائشہ قذافی، جو پیشے سے وکیل ہیں اور۲۰۱۱ء سے قبل اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر بھی رہ چکی ہیں، لیبیا چھوڑنے کے بعد سے اپنے والد کی حکومت کے خاتمے کے واقعات پر نڈر ہوکر بولتی رہی ہیں۔ ان کے اس بیان کو خطے میں مغربی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کی جانب سے پذیرائی مل رہی ہے۔ تاہم ایرانی حکام اور مغربی ممالک کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK