Updated: March 31, 2026, 10:15 PM IST
| Tehran
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کا منصوبہ منظور کر لیا ہے، جس سے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی جنگ کے باعث ہرمز دنیا کا سب سے حساس تجارتی راستہ بن چکا ہے۔
(۱) آبنائے ہرمز پر ایران کا ٹول پلان، عالمی تجارت کیلئے نیا بحران
ایران کی پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم اور ممکنہ طور پر خطرناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت غیر ملکی تجارتی اور توانائی بردار جہازوں کو مخصوص فیس ادا کرنی ہوگی، جو ایران کے کنٹرول میں موجود اس اہم آبی راستے سے گزرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ’’یہ اقدام قومی مفادات کے تحفظ اور جنگی حالات میں کنٹرول بڑھانے کیلئے ہے۔‘‘ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ لاکھوں بیرل تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ نے اسرائیلیوں کے قتل کے مرتکب فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی منظوری دی
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی ایران جنگ کے باعث اس آبی گزرگاہ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ خلیجی ممالک، یورپ اور ایشیا کی بڑی معیشتیں اس راستے پر انحصار کرتی ہیں، اور کسی بھی نئی پالیسی سے ان کے توانائی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی مارکیٹس میں فوری ردعمل دیکھا گیا، جہاں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اگر یہ ٹول پلان مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے اور تجارتی لاگت میں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمزگزرگاہ بند رہی تو تیل کی قیمت ۱۵۰؍ ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے: جے پی مورگن
دوسری جانب کچھ ممالک نے اس اقدام پر تشویش ظاہر کی ہے اور اسے عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار دیا ہے، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود میں قوانین نافذ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب صرف فوجی نہیں بلکہ اقتصادی اور تجارتی محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال آنے والے دنوں میں عالمی معیشت کیلئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ اس پر ہونے والے فیصلے توانائی کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور سفارتی تعلقات پر براہ راست اثر ڈالیں گے۔