Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی سی سی کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے: امریکی پابندیوں کے بعد صدر توموکو اکانے

Updated: August 27, 2026, 4:35 PM IST | Hague

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر توموکو اکانے نے امریکی دباؤ کے باوجود عدالت کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہیگ میں قائم عدالت کی جاپانی صدر نے رکن ممالک سے ادارے کی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے لیے آئی سی سی آخری امید ہے۔

Tomoko Akane. Picture: INN
ٹوموکو اکانے۔ تصویر: آئی این این

بین الاقوامی فوجداری عدالت کی صدر توموکو اکانے نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے عدالت کو ختم کرنے کی مہم کی مخالفت کرتے ہوئے رکن ممالک سے آئی سی سی کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔ بدھ کو آن لائن پریس کانفرنس میں اکانے نے کہا کہ ’’آئی سی سی کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے لیے عدالت ’’آخری امید‘‘ ہے۔ امریکہ نے ۱۸؍ اگست کو اکانے اور آئی سی سی کے سینیئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے کو پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو ’’بدعنوان اور انتہائی سیاسی زدہ سپرانیشنل عدالت‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے ایسے ممالک کے شہریوں کے خلاف کارروائی کی کوشش کی جنہوں نے عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پولی مارکیٹ میں ٹائم پرسن آف دی ایئر کیلئےٹرمپ کے حریف آگے

تازہ پابندیوں کے بعد امریکہ نے آئی سی سی کے ۱۸؍ میں سے ۹؍ ججوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کے دونوں ڈپٹی پراسیکیوٹرز، سابق پراسیکیوٹر اور پراسیکیوٹر آفس کے ایک ملازم پر بھی امریکی پابندیاں عائد ہیں۔ پابندیوں کے نتیجے میں متاثرہ افراد کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں، امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے لین دین محدود ہوجاتا ہے اور امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ اکانے نے بتایا کہ ان پابندیوں کے ذاتی اثرات بھی سامنے آئے ہیں اور وہ اپنے کریڈٹ کارڈز استعمال نہیں کرپارہی ہیں۔ اکانے نے کہا کہ ’’مجھے امریکی پابندیاں عائد کیے جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں کسی بھی منفی اثرات کا مقابلہ کروں گی۔‘‘ ان کے مطابق پابندیوں نے انہیں اپنے عدالتی فرائض کی انجام دہی سے نہیں روکا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیپال تبت سیلاب میں ۱۶۲؍ ہلاکتیں، ۱۵۰۰؍ افراد لاپتہ

انہوں نے جاپان سے بھی امریکی حکومت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور آئی سی سی کی حمایت میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ جاپان عدالت کا بڑا مالی معاون ہے اور ۲۰۰۷ء میں آئی سی سی میں شامل ہوا تھا۔ اکانے نے کہا کہ ٹوکیو کو دیگر رکن ممالک کو امریکی دباؤ کے تحت عدالت سے الگ ہونے سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امریکی حکومت نے آئی سی سی کے خلاف مہم کو مزید آگے بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ روبیو نے جولائی میں کہا تھا کہ واشنگٹن عدالت کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خودمختاری کو لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے اس کی کارروائیوں کو محدود کرے گا اور دیگر ممالک سے آئی سی سی کی رکنیت یا مالی معاونت ختم کرنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: خفیہ فلم بندی تنازع کے بعد میٹا اسمارٹ گلاسیز کیلئے ’کِل سوئچ‘ پر غور

واضح رہے کہ واشنگٹن اور آئی سی سی کے درمیان تنازع کی ایک بڑی وجہ عدالت کی جانب سے اسرائیلی حکام سے متعلق کارروائی بھی ہے۔ آئی سی سی نے نومبر ۲۰۲۴ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ جنگ سے متعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں، جبکہ فلسطین عدالت کا رکن ہے۔ آئی سی سی نے امریکی پابندیوں کو عدالتی آزادی پر ’’کھلا حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ججوں، پراسیکیوٹرز اور عملے کو قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے پر دھمکانا بین الاقوامی قانونی نظام اور قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ وہ روم اسٹیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں آزادی اور غیر جانب داری کے ساتھ جاری رکھے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK