Updated: August 27, 2026, 5:00 PM IST
| Tehran
ایران نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے اور واشنگٹن کو ان کا مکمل ازالہ کرنے کا پابند کیا جائے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی پابندیوں کو ’’اقتصادی دہشت گردی کی مہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ایران کو ہونے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کی تلافی امریکہ کی ذمہ داری ہے۔
عباس عراقچی۔ تصویر: آئی این این
ایران نے امریکی یکطرفہ پابندیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر واشنگٹن سے مکمل معاوضے اور ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو پیغام میں کہا کہ امریکہ ان اقدامات سے پیدا ہونے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کی تلافی کا بین الاقوامی ذمہ دار ہے۔ عراقچی نے امریکی پابندیوں کو ’’اقتصادی دہشت گردی کی مہم‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یکطرفہ جبری اقتصادی اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے حقوق کے تحفظ، جواب دہی اور ہرجانے کے حصول کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں عارضی راستے پر ایران اور عمان کے درمیان اتفاق
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی اقدامات سے ہونے والے تمام مادی اور اخلاقی نقصانات، بحالی اور ہرجانے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ قانونی عناصر ثابت ہوجائیں تو ان اقدامات کے ذمہ دار افراد کو انفرادی فوجداری ذمہ داری کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ یہ عراقچی کا قانونی موقف ہے؛ انہوں نے اس امکان کو کسی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا۔ تہران نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے واشنگٹن کی یکطرفہ اور ثانوی پابندیوں کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے ذریعے خودمختار ممالک کو اپنے جائز اقتصادی مفادات اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
عراقچی نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تیسرے ممالک اور ان کے شہریوں پر دباؤ ڈالنے والے اقدامات فوری طور پر روکے۔ ایران نے دیگر ممالک سے بھی کہا کہ وہ ایسی پابندیوں کو تسلیم، منظور یا نافذ نہ کریں جن کے ذریعے واشنگٹن اپنی یکطرفہ پالیسیوں کو دوسرے ممالک کے خودمختار فیصلوں سے جوڑتا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس سے بھی اپیل کی ہے کہ امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر اثرات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔ تہران نے خاص طور پر شہریوں کی خوراک، ادویات، طبی سہولتوں، توانائی، نقل و حمل اور انسانی امداد تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ عراقچی نے متعلقہ شواہد کو آزادانہ طور پر جانچنے، دستاویزی شکل دینے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں جواب دہی کے کسی بھی عمل کے لیے ریکارڈ دستیاب ہو۔
یہ بھی پڑھئے:بھوکر میں وقف اراضی پرتنازع شدید، سابق کارپوریٹر نے متولیوں پر سوال اٹھائے
ایران کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے ایران کے خلاف نئی وسیع پابندیوں کی مہم شروع کی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق نئی پابندیوں میں ہوا بازی، جہاز رانی، سونا، ٹیکنالوجی اور ڈجیٹل اثاثوں سے متعلق شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ۶۰؍ سے زائد اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔ امریکی حکام نے اسے ایران کی اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ تہران اسے اپنے عوام کو نقصان پہنچانے والی غیر قانونی اقتصادی کارروائی قرار دے رہا ہے۔