ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں ٹرمپ کی دھمکیو ں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا موقف واضح کردیا
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 10:39 PM IST | Tehran
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں ٹرمپ کی دھمکیو ں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا موقف واضح کردیا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو ایران پر حملے کے لئے مسلسل پرتول رہے ہیں ،کی دھمکیوں اور اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ان کی غلط بیانیوں پر ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ ایران کے مطابق وہ امریکہ سے جنگ کے لئے بھی تیار ہے اور امن کے لئے بھی ۔ اسی لئے وہ جنیوا میں بات چیت میں شامل ہے لیکن امریکہ ایک بات اچھی طرح سے سمجھ لے کہ ایران اپنے قومی مفادات سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے خطاب پر اپنے ردعمل میں واضح طور پر کہا کہ ایران، امریکہ کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے تیار ہے لیکن یورینیم کی پرامن افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ایرانی دارالحکومت تہران میں ہندوستانی میڈیا سمیت دیگر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بناتے رہے ہیں کہ ہمارا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئےہی رہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا لیکن ہم چاہیں گے کہ ایران پر عائد تمام پابندیاں ہٹائی جائیں۔ ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کیا جائے کیوں کہ ہم پہلے بھی یہ واضح کرچکے ہیں اور اب بھی بالکل واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ ایران جنگ کے لئے بھی تیار ہے اور امن کے لئے بھی ۔ اب یہ فیصلہ امریکہ کو کرنا ہےکہ وہ کیا چاہتا ہے۔
عراقچی نے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں طویل گفتگو بھی کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہے ہیں، یہ صرف امریکہ اور اس کے بغل بچہ اسرائیل کا پھیلایا گیا جھوٹ ہے۔ ہم نے جان بوجھ کر اپنے میزائلوں کی رینج کو۲؍ہزار کلومیٹر سے کم رکھا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔ یاد رہے کہ ان کا یہ بیان جنیوا میں دونوں ملکوں کے درمیان متوقع مذاکرات سے دو روز قبل سامنے آیا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو سےقبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران جنیوا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کم سے کم وقت میں ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کے ساتھ کرے گا لیکن اس سے یہ پیغام نہیں جانا چاہئے کہ ایران اپنے قومی مفادات سےکوئی سمجھوتہ کررہا ہے۔ ہم نے ہر قدم پر اپنے پر اپنے مفادات کو واضح کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاہدے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ وہ جنگ کیلئے بھی تیار ہے اور امن قائم رکھنے کے لئے بھی تیار ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دورجمعرات یا جمعہ سے شروع ہونے والا ہے۔