• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کشیدگی کے درمیان اسرائیل کو پیچیدہ اور مشکل دنوں کا سامنا: نیتن یاہو

Updated: February 24, 2026, 10:04 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کشیدگی کے درمیان اسرائیل کو پیچیدہ اور مشکل دنوں کا سامناہے، ساتھ ایرانی حملے کی صور میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کو کہا کہ اسرائیل ’’پیچیدہ اور انتہائی مشکل ‘‘دنوں سے گزر رہا ہے ‘‘  جو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اشارہ ہے۔نیتن یاہو نے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسے دنوں کا سامنا ہے جو قوم کی زندگیسے وابستہ ہیں اور مزید کہا کہ آنے والے دور میں غیر یقینی کی کیفیت ہے۔انہوں نے کہا، ’’کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا،انہوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاریوں کے دوران اتحاد پر زور دیا۔تاہم نتن یاہو نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ’’سخت جوابی کارروائی‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کہا کہ ایسا کرکے ایران اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ذمہ داریاں علی لاریجانی کو سونپ دیں !

دریں اثناء کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے ایران کے تیل کے ذخائر اور توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے پر زور دیا، اور دعویٰ کیا کہ اس طرح کے حملے ان کے بقول ’’آیت اللہ حکومت‘‘ کا تختہ پلٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے، چاہے اس سے امریکہ کے ساتھ سفارتی کشیدگی ہی کیوں نہ بڑھے۔لاپیڈ نے اپنے بیانات میں کہا جو روزنامہ یدیعوت احرونوت نے شائع کیے، ’’آپ جانتے ہیں کہ میں اپوزیشن لیڈر ہوں اور نیتن یاہو اور میں حریف ہیں، لیکن اس معاملے پر وہ صحیح ہیں۔ ایران پر پوری طاقت سے حملہ کیا جانا چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اگر تصادم ہوتا ہے تو ہم سب اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ دیں گے۔‘‘
بعد ازاں لاپیڈنے اسرائیل سے کہا کہ وہ تامل نہ کرے، چاہے اس کی قیمت واشنگٹن کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہو۔علیحدہ طور پر، اسرائیلی چینل۱۳؍ نے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، چیف آف اسٹاف ایال زامیر، موساد کے سربراہ ڈیوید بارنیا اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بنڈر کے ساتھ شرکت کی جس میں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عوامی نشریاتی ادارے کین کے مطابق، اسرائیل اس امکان کی تیاری کر رہا ہے کہ ممکنہ امریکی حملے کے پہلے گھنٹوں میں ایران پر حملہ کرنے کے لیے تل ابیب کو امریکہ روک دے۔کین نے کہا کہ اگر ایران نے تل ابیب کی طرف بیلسٹک میزائل داغے تو اسرائیل کو فوری طور پر ایران پر حملہ کرنے کے لیے امریکی ہری جھنڈی مل جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ: تعمیراتی اجازت ناموں پر ہاریٹز کی تہلکہ خیز رپورٹ

واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کے ممکنہ جوہری اور میزائل پروگراموں کو روکنے کے لیے حملے کی خبروں کے درمیان خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے پیر کی شام خبر دی کہ  امریکی ایندھن بھرنے والے طیارے تل ابیب کے قریب بن گوریون ہوائی اڈے پر اترے ہیں۔اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کو ایران کے ساتھ جنگ کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے تین گھنٹے سے زائد اجلاس کیا۔چینل۱۲؍ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی حکام جمعرات کو جینیوا میں طے شدہ امریکہ ایران مذاکرات کے اگلے دور کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھتے ہیں۔اتوار کو، عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تصدیق کی کہ ایران کے جوہری معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان نئے مذاکرات جینیوا میں ہوں گے۔اس سے قبل عمان نے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کی تھی، جن میں۶؍ فروری کو مسقط میں ہونے والی ابتدائی بات چیت کے بعد گزشتہ ہفتے جینیوا میں ایک اجلاس بھی شامل تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK