Updated: February 25, 2026, 7:06 PM IST
| Washington
امریکہ کے اقلیتی لیڈرچک شومر نے ایران کے ممکنہ حملوں کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی رازداری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’’خفیہ‘‘ کارروائیاں سانحہ کا باعث بن سکتی ہیں،یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کانگریس کے لیڈروں کو پس پردہ آگاہ کیا۔
امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈرچک شومر۔ تصویر: آئی این این
امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈرچک شومرنامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایران پر ممکنہ حملوں کے تعلق سے ٹرمپ انتظامیہ کی رازداری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’’خفیہ‘‘ کارروائیاں سانحہ کا باعث بن سکتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ،’’یہ معاملہ سنگین ہے۔ اگر انتظامیہ ایران کے حوالے سے کوئی کارروائی کرنا چاہتی ہے تو اسے عوام پر واضح کرنا چاہیے، خفیہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔‘‘انہوں نے زور دیا کہ فوجی کشیدگی سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کو اپنا موقف عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔شومر نے خبردار کیا کہ خفیہ فوجی کارروائی اکثر تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب آپ فوجی کارروائیاں خفیہ طور پر کرتے ہیں تو یہ طویل جنگیں، سانحات، اخراجات اور غلطیوں کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین ۲۰۲۶ء؛ تنازعات اور مبینہ غلط بیانات
واضح رہے کہ یہ بریفنگ مارکو روبیو کی قیادت میں ہوئی جس میں سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی شریک تھے۔ اس اجلاس میں کانگریس کی ’’گینگ آف ایٹ‘‘ (آٹھ رکنی اہم کمیٹی) شامل تھی۔ بعد ازاں یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران پر ممکنہ فوجی حملوں پر غور کر رہی ہے۔ایوان نمائندگان میں اقلیتی لیڈرحکیم جیفریز نے بھی یکطرفہ کارروائی کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکی عوام سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کو کسی اور ناکام غیرملکی جنگ میں نہیں پڑنا چاہیے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے بغیر کسی حتمی حل کے امریکی جانوں کا نقصان ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کشیدگی کے درمیان اسرائیل کو پیچیدہ اور مشکل دنوں کا سامنا: نیتن یاہو
تاہم جیفریز نے صدر ٹرمپ کے اس سابقہ دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اب اچانک ہنگامی صورتحال کیوں پیدا ہو گئی ہے۔یہ بریفنگ اس وقت ہوئی ہے جب امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز اور ۱۲۰؍سے زائد فوجی طیارے تعینات کیے ہیں۔جبکہ عمان کی ثالثی میں جوہری مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کوجینیوا میں شروع ہونے والا ہے۔ دریں اثناءایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے معاہدہ ممکن ہے، تاہم انہوں نے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی وارننگ دی ہے۔