• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل امریکی فوجی طاقت کے سہارے ایران جنگ پر زور دے رہا ہے: ماہرین

Updated: February 25, 2026, 10:15 PM IST | Washington

ماہرین نےخبردار کیا ہے کہ اسرائیل امریکی فوجی طاقت کے سہارے ایران جنگ پر زوردے رہا ہے، ان کے مطابق اسرائیل اپنی فوجی صلاحیتوں پر انحصار کرنے کی بجائےایران کے خلاف فوجی کارروائی کیلئےامریکی طاقت پر انحصار کررہا ہے۔

Donald Trump and Netanyahu. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اسرائیل اپنی فوجی صلاحیتوں پر انحصار کرنے کے بجائے تہران کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی طاقت پر بھاری انحصار کر رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ تجزیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے، یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ تعینات کیا ہے اور اضافی جنگی طیاروں کے ساتھ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب امریکی اور ایرانی حکام جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کے لیے جینیوا میں ملاقات کرنے والے ہیں۔
کنگز کالج لندن میں بین الاقوامی سلامتی کے لیکچرار روب گیسٹ پنفولڈ نے کہا کہ ’’اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیلی ممکنہ طور پر ان کا حوصلہ بڑھائیں گے اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے آپریشن کو جاری رکھنے کی وکالت کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ "مختصر یہ کہ جب اور اگر آپریشن شروع ہوتا ہے تو اسرائیل چاہے گا کہ امریکہ پوری طاقت سے حملہ کرے۔‘‘پنفولڈ نے زور دیا کہ اسرائیل کی ہچکچاہٹ حکمت عملی  میں تبدیلی کی بجائے تیاری کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے ساتھ گذشتہ سال کی۱۲؍ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے میزائل دفاعی ذخائر ختم ہو چکے ہیں اور اس کی فوجی توجہ متعدد محاذوں پر بٹی ہوئی ہے۔اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیل کے تنہا رہنے کا امکان نہیں ہے۔تاہم تہران نے بار بار خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو نشانہ بنا کر کسی بھی امریکی حملے کا جواب دے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کے خلاف خفیہ کارروائی سانحہ کا باعث بن سکتی ہے: اقلیتی لیڈرچک شومر

بعد ازاں اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار آہرون برگمین نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل تنازع میں شامل ہوتا ہے تو ایران جوابی کارروائی کرے گا، جس کے نتیجے میں بہت سے شہری ہلاکتیں ہوں گی، خاص طور پر اگر یہ طویل تنازع ہو۔برگمین نے اسرائیل کے کثیر سطحی میزائل دفاعی نظام کے کردار پر زور دیا، جس میں آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ، اور ایرو سسٹم شامل ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ جدید دفاعی نظام بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی لیڈرایران کے ساتھ سفارت کاری کے بارے میں گہری شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ پنفولڈ نے کہا کہ اسرائیلی عہدیدار نیتن یاہو کے حامی اور مخالف دونوں سیاستدان سفارتی حل پر بھروسہ نہیں کرتے۔برگمین نے نشاندہی کی کہ ایران ان چند مسائل میں سے ایک ہے جس پر اسرائیلی معاشرے میں وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’زیادہ تر اسرائیلی محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ جانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے، خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ ایران حملہ کرے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK