Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک کو سخت انتباہ

Updated: August 03, 2026, 12:29 PM IST | Agency | Tehran

جارحیت پر فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان،کہاکہ دشمن کی ہر دھمکی کو حقیقی سمجھتے ہیں، فوجی تیاریاں مزید بڑھانے کاعزم ۔

Iran Has Kept Its Missiles Ready.Photo:INN
ایران نے اپنے میزائل تیار رکھے ہیں-تصویر:آئی این این

 ایران نے امریکہ، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی یا مداخلت کے نتائج کی مکمل ذمہ داری حملہ آور فریق پر ہوگی جبکہ تہران ہر قسم کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بین الاقوامی ایف ایم سی جی کمپنیوں کا ہندوستان کے ریٹیل شعبہ موجودگی بڑھانے کا اشارہ

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف، سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور ترکیہ کے وزیر خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں خطے کی سیکورٹی صورتحال اور حالیہ کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ایران اپنے خلاف ہونے والی ہر کارروائی کا بھرپور اور سخت جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے کسی بھی نوعیت کی جارحیت کی تو تہران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر کسی علاقائی ملک نے ایسے کسی اقدام میں کردار ادا کیا تو ایران اس کے خلاف بھی سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے:آر ڈی برمن کی بایوپک میں اکشے کمار خصوصی کردار میں نظرآئیں گے

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ایران اپنے مخالف ممالک کی جانب سے دی جانے والی ہر دھمکی کو حقیقی اور قابل اعتبار سمجھتا ہے خواہ وہ نفسیاتی دباؤ یا جنگی پروپیگنڈے کا حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجید ابن الرضا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کو معمولی نہیں سمجھتا اور ہر قسم کی دھمکی کو پوری سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی خطرے سے غافل ہوگا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر بیٹھے گا جبکہ ملک کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال سے نپٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ ایران ہر دھمکی کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، فوجی تیاریوں میں اضافہ کرنے، دفاعی حکمت عملی کو بہتر بنانے اور دشمن کے خلاف قوت برقرار رکھنے کے موقع کے طور پر استعمال کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK