• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو اے ای: مساجد میں والدین کو نئی نسل کو پانی کی اہمیت سے روشناس کروانے کی تلقین

Updated: September 18, 2026, 7:04 PM IST | Abu Dhabi

’پانی زندگی کی بنیاد ہے‘ کے عنوان سے آج متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مساجد میں تقریر۔ نمازیوں سے بچوں کو پانی ضائع نہ کرنے کی عادت سکھانے کی اپیل۔ نبی کریم ﷺ کے وضو میں کم پانی استعمال کرنے کی مثال بھی پیش کی گئی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

متحدہ عرب امارات کی مساجد میں آج خطبۂ جمعہ میں پانی کو اللہ کی عظیم نعمت اور امانت قرار دیتے ہوئے اس کے غیر ضروری استعمال اور اسراف سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ ’وجعلنا من الماء کل شیء حی‘ کے عنوان سے دیے جانے والے خطبے میں نمازیوں پر زور دیا گیا کہ وہ نہ صرف خود پانی کا محتاط استعمال کریں بلکہ اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو بھی اس قیمتی وسیلے کی اہمیت سمجھائیں۔ خطبے میں قرآن مجید کی آیت ’’اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز پیدا کی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پانی کو زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دیا گیا۔ خطبے کے مطابق انسان پانی کو روزمرہ زندگی میں اتنا معمول سمجھنے لگا ہے کہ اس کی قدر کم محسوس ہوتی ہے، حالانکہ گزشتہ نسلوں کو پانی کے حصول کے لیے طویل سفر اور سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کی

نمازیوں کو خاص طور پر پانی کے ضیاع سے بچنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ضرورت کے بغیر ضائع ہونے والا پانی ایک عظیم نعمت کا غلط استعمال اور اس امانت میں کوتاہی ہے جو اللہ نے ہمارے ہاتھوں میں رکھی ہے۔‘‘ خطبے میں یہ بھی کہا گیا کہ پانی ضائع کرنے کا خیال آئے تو ان لوگوں کو یاد کرنا چاہیے جو صحرا میں ایک قطرہ پانی کی تلاش میں سفر کرتے یا چٹانوں کے درمیان پانی کی معمولی مقدار حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔خطبے میں قرآن کی ایک اور ہدایت ’’اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ کا حوالہ دے کر پانی کے استعمال میں اعتدال اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ پیغام میں واضح کیا گیا کہ پانی کی نعمت کا شکر صرف زبان سے ادا کرنا کافی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں اس کے ذمہ دارانہ استعمال سے بھی ظاہر ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کا بڑا حملہ، ایک شہری جاں بحق، مواصلاتی ٹاور تباہ

نبی کریم ﷺ کے طرزِ عمل کو بھی پانی کے محتاط استعمال کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ خطبے میں حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آپ ﷺ وضو کے لیے تقریباً ایک مُد پانی استعمال فرماتے تھے، جو ۲؍ اوسط ہتھیلیوں میں سما جانے والی مقدار کے برابر اور تقریباً ۵ء۰؍ لیٹر بنتی ہے۔ خطبے میں سوال اٹھایا گیا کہ اگر عبادت کے لیے طہارت حاصل کرتے وقت اتنا اعتدال اختیار کیا جاتا تھا تو زندگی کے دوسرے کاموں میں پانی کے استعمال کے بارے میں انسان کو کتنا محتاط ہونا چاہیے۔ خطبے میں والدین سے کہا گیا کہ وہ پانی کے معاملے میں اپنے بچوں کے لیے عملی مثال بنیں۔ پیغام میں پانی کو ’’ایسی نعمت قرار دیا گیا جس پر شکر ادا کرنا، جس کی حفاظت کرنا اور جسے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔‘‘ یوں پانی کا تحفظ صرف انفرادی عادت نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کو بڑا خطرہ: گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا سے ۱۲؍ لاکھ کروڑ ٹن برف غائب

خطبے کا دوسرا حصہ متحدہ عرب امارات کی پانی سے متعلق قومی کوششوں سے جوڑا گیا۔ اس میں صدر شیخ محمد بن زاید کی ہدایت پر قائم محمد بن زاید واٹر انیشی ایٹو کا ذکر کیا گیا، جس کا مقصد پانی کی قلت کے مسئلے کے بارے میں شعور بڑھانا، اس کے حل کے لیے جدت کو تیز کرنا اور پانی کے پائیدار انتظام کو فروغ دینا ہے۔ اسی اقدام کے تحت واٹر پاینیرز پروگرام کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کا مقصد نوجوان اماراتیوں کو پانی سے متعلق چیلنجز کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے، علم کو عملی اقدامات سے جوڑنے اور نئی سوچ و جدت کے ذریعے مستقبل کے لیے تیاری کرنے میں شامل کرنا ہے۔ پانی کا موضوع امارات کی عالمی سطح پر جاری کوششوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ۲۰۲۶ء اقوام متحدہ واٹر کانفرنس متحدہ عرب امارات اور سینیگال کی مشترکہ میزبانی میں ۸؍ سے ۱۰؍ دسمبر تک ابوظبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہوگی، جہاں عالمی سطح پر پانی کی قلت، تحفظ اور پائیدار انتظام سے متعلق مسائل زیر بحث آئیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK