سنتوش دواکھر کی فلم ۹۹؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کے بین الاقوامی فیچر فلم زمرے کے لیے منتخب؛ دیہی مہاراشٹر کی روایتی ’گوندھل‘ رسم کے پس منظر میں بنے اس تھرلر میں عشقیہ تعلق، قتل کی سازش اور فرار کی کہانی۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai
سنتوش دواکھر کی فلم ۹۹؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کے بین الاقوامی فیچر فلم زمرے کے لیے منتخب؛ دیہی مہاراشٹر کی روایتی ’گوندھل‘ رسم کے پس منظر میں بنے اس تھرلر میں عشقیہ تعلق، قتل کی سازش اور فرار کی کہانی۔
مراٹھی فلم ’گوندھل‘ کو آسکر ۲۰۲۷ء کے لیے ہندوستان کی باضابطہ فلم کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ فلم فیڈریشن آف انڈیا نے ۱۸؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ سنتوش دواکھر کی تحریر و ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ۹۹؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم زمرے میں ہندوستان کی نمائندگی کرے گی۔ اس سال انتخاب کے لیے مختلف زبانوں کی ۳۳؍ فلمیں پیش کی گئی تھیں۔ فلم کے انتخاب کے لیے بنائی گئی جیوری کے سربراہ پی شیشادری تھے، جبکہ پینل میں وجے پاٹکر، ہُٹو کنودیا، شانتی کمار، سندیپ پرشار، سنجے پاٹل، صبو جوزف، انیل تھامس، وویک واسوانی، بیجون داس گپتا اور دیگر ارکان شامل تھے۔ شیشادری نے اعلان کے موقع پر کہا کہ گزشتہ ۱۰؍ دنوں میں جیوری نے ۳۳؍ فلمیں دیکھیں اور مختلف فلموں پر تفصیلی غور کیا۔ ان کے مطابق آخری مرحلے میں ’گوندھل‘، ’انگھ‘ اور ’اکیس‘ زیرِ غور تھیں، جن میں سے ’گوندھل‘ کو باضابطہ انٹری کے لیے منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: عمر خالد پر دستاویزی فلم کی نمائش منسوخ، سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر اعتراض
’گوندھل‘ کی کہانی دیہی مہاراشٹر میں ہونے والی روایتی گوندھل رسم کے پس منظر میں آگے بڑھتی ہے۔ یہ ایک رات تک جاری رہنے والی مذہبی و لوک روایت ہے، جس میں موسیقی، رقص، داستان اور دیوی دیوتاؤں کی عبادت کے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ فلم اسی رات کے دوران ایک نو بیاہتا جوڑے کی زندگی میں پیدا ہونے والے پیچیدہ حالات کو مرکز بناتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار سمن ایک ایسے ازدواجی رشتے میں پھنس چکی ہے جس سے وہ ناخوش ہے۔ اس کی زندگی میں ایک ممنوعہ محبت داخل ہوتی ہے اور دونوں مل کر شوہر کے قتل اور فرار کا منصوبہ بناتے ہیں۔ گوندھل کی مذہبی فضا، خاندانی دباؤ، خواہشات اور جرم ایک ہی رات میں ایک دوسرے سے جڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم ایک نفسیاتی اور ثقافتی تھرلر کی شکل اختیار کرتی ہے۔
فلم میں ایشیتا دیش مکھ نے سمن کا مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے ساتھ کشور کدم، یوگیش سونونی، نیشاد بھوئیر، انوج پربھو، سریش وشوکرما اور وتھل کالے اہم کرداروں میں شامل ہیں۔ معروف موسیقار الیاراجا نے فلم کی موسیقی ترتیب دی ہے۔ ’گوندھل‘ کا عالمی پریمیر ۲۰۲۵ء کے ۵۶؍ ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں گوا میں ہوا تھا، جہاں یہ انڈین پینوراما حصے میں شامل کی گئی۔ فلم کے ہدایت کار سنتوش دواکھر کو اسی فیسٹیول میں بہترین ہدایت کار کا سلور پی کاک ایوارڈ بھی ملا۔ فلم کو بعد میں بنگلورو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، پونے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور تھرڈ آئی ایشین انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی اعزازات ملے۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب کسی مراٹھی فلم کو آسکر کے بین الاقوامی فیچر فلم زمرے میں ہندوستان کی باضابطہ انٹری کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ اس سے پہلے ’شواس‘ کو ۲۰۰۴ء ، ’ہریش چندرچی فیکٹری‘ کو ۲۰۰۹ء اور ’کورٹ‘ کو ۲۰۱۵ء میں ہندوستان کی جانب سے بھیجا جاچکا ہے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی فلم حتمی آسکر ایوارڈ اپنے نام نہیں کرسکی۔
اس سال ہندوستان کی جانب سے غور کے لیے پیش کی گئی ۳۳؍ فلموں میں ’دھرندھر‘، ’دھرندھر: دی ریوینج‘، ’ہنومان انش‘، ’بارڈر ۲‘ ، ’حق‘، ’ ۱۲۰؍ بہادر‘، ’مین واپس آؤں گا‘، ’پیدی‘، ’گاندھی ٹاکس‘، ’بائسن: کالامادان‘، ’دیوُل بینڈ ۲‘‘ اور دیگر فلمیں شامل تھیں۔ فہرست میں ۱۴؍ ہندی، ۴؍ مراٹھی، ۴؍ تیلگو، ۴؍ گجراتی، ۳؍ تمل، ایک ملیالم، ایک ناگامیز اور ایک خاموش فلم شامل تھی۔ فلم کے انتخاب کے بعد آسکر کا اگلا مرحلہ اکیڈمی کی جانب سے بین الاقوامی فیچر فلموں کی ۱۵؍ فلموں کی شارٹ لسٹ تیار کرنا ہوگا۔ اس کے بعد حتمی ۵؍ نامزدگیوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ۹۹؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز ۱۴؍ مارچ ۲۰۲۷ء کو لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہوں گے۔