ایران نے مبینہ طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث تیل کے پروڈکشن میں کمی شروع کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے ایک سینئر افسر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 4:06 PM IST | Tehran
ایران نے مبینہ طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث تیل کے پروڈکشن میں کمی شروع کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے ایک سینئر افسر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔
ایران نے مبینہ طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث تیل کے پروڈکشن میں کمی شروع کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے ایک سینئر افسر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ ایران تیل کے پروڈکشن میں کمی کر رہا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، ایرانی انجینئر کنوؤں کو بند کرنے اور شدید نقصان پہنچائے بغیر پروڈکشن کو فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کے اہل ہیں۔
واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف پر حملے شروع کیے تھے، جس میں ۳؍ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ اور ایران نے ۸؍ اپریل ۲۰۲۶ءکو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بعد میں ہوئی بات چیت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان فی الحال کسی طرح کی گولہ باری کی کوئی خبر نہیں ہے، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:۹؍ ریاستوں میں بارش، کئی مقامات پر زالہ باری
بلومبرگ کے مطابق ایرانی انجینئر کنوؤں کو بند کرنے اور شدید نقصان پہنچائے بغیر پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے کے اہل ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کانگریس کو خط ارسال کرکے ایران کے خلاف دشمنی ختم کرنے کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ ایران سے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے امریکی فوج خطے میں بنی رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے:نرگس نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی اداکارہ تھیں
ایرانی سپر آئل ٹینکر امریکی ناکہ بندی کو چکمہ دینے میں کامیاب، مشرق بعید پہنچ گیا
ایران کا ایک بڑا آئل ٹینکر مبینہ طور پر امریکی بحری نگرانی اور ٹریکنگ سسٹمز کو چکمہ دیتے ہوئے بحفاظت مشرق بعید کے سمندری علاقوں تک پہنچ گیا ہے جس پر عالمی بحری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ میرین مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کا ویری لارج کروڈ کیریئر ایک ہفتہ قبل سری لنکا کے قریب آخری بار دیکھا گیا تھا جس کے بعد اس کی نقل و حرکت خفیہ ہو گئی تھی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ٹینکر اس وقت انڈونیشیا کے لومبوک آبنائے سے گزرتے ہوئے ریاؤ جزائر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جہاز پر تقریباً ۱۹؍ لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے جس کی مالیت ۲۲؍ کروڑ ڈالر کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹینکر کی جانب سے ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر مخصوص تکنیکی طریقے اختیار کیے گئے جس کے باعث اس کی درست لوکیشن کچھ عرصے تک معلوم نہ ہو سکی۔