امریکہ کے نائب صدر کے مطابق اگر آپ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو۶۰؍ فیصد افزودہ ایندھن کی کیا ضرورت ہے، انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کریں۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 1:45 PM IST | Agency | Washington
امریکہ کے نائب صدر کے مطابق اگر آپ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو۶۰؍ فیصد افزودہ ایندھن کی کیا ضرورت ہے، انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کریں۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ کے خاتمے کے لئے جوہری افزودگی میں ’خاطرخواہ‘ کمی لانی ہوگی۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے الاسکا میں ان کا انٹرویو کیا جو طویل عرصے تک بیرون ملک جنگوں میں امریکی مداخلت کے ناقد رہے ہیں لیکن اب وہ ایسی ہی ایک جنگ کے خاتمے کے لئے ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد ایک عارضی معاہدہ بھی کرایا تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا۔
جے ڈی وینس ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور اکتوبر میں ہونے والا عبوری امن معاہدہ بھی اسی بات چیت کا نتیجہ تھا جو جلد ہی غیر مؤثر ہو گیا تھا۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لئے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کو کم کرنا ہو گا اور یہ صرف وعدوں یا یقین دہانی تک محدود نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا : پورے ملک میں فلسطین حامی مظاہرے، اسرائیل پر اسلحہ پابندی کا مطالبہ
ان کے مطابق اگر آپ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو۶۰؍ فیصد افزودہ ایندھن کی کیا ضرورت ہے، اگر آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے تو انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کریں، یہ ایک بنیادی نکتہ ہے۔ جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ اگر واقعی ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اسے یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت میں واضح اور عملی کمی لانی ہو گی۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث عالمی توانائی کی مارکیٹ بری طرح متاثرہوئی ہے اور یہی صورتحال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے ایک بڑا مسئلہ بھی بن گئی ہے۔ایران اور امریکہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ بھی کیا لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تازہ تجویز مسترد کی گئی ہے اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔ وینس کو وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے جانشین کے طور پر ایک اہم ریپبلکن امیدوار سمجھا جاتا ہے۔اس بارےمیںوینس نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ۲۰۲۸ء میں صدارت کی دوڑ میں حصہ لیں گے یا نہیں۔